کلامِ اکبررباعیات
جو حسرت دل ہے وہ نکلنے کی نہیں
۱
جو حسرت دل ہے وہ نکلنے کی نہیںجو بات ہے کام کی وہ چلنے کی نہیںیہ بھی ہے بہت کہ دل سنبھالے رہئےقومی حالت یہاں سنبھلنے کی نہیں
۸۰ / ۱۴۶
کلامِ اکبررباعیات
جو حسرت دل ہے وہ نکلنے کی نہیںجو بات ہے کام کی وہ چلنے کی نہیںیہ بھی ہے بہت کہ دل سنبھالے رہئےقومی حالت یہاں سنبھلنے کی نہیں
۸۰ / ۱۴۶