کلامِ اکبررباعیات
افسوس سفید ہو گئے بال ترے
۱
افسوس سفید ہو گئے بال ترےلیکن ہیں سیاہ اب بھی اعمال ترےتو زلف بتاں بنا ہوا ہے اب تکدنیا پہ ہنوز پڑتے ہیں جال ترے
۸۱ / ۱۴۶
کلامِ اکبررباعیات
افسوس سفید ہو گئے بال ترےلیکن ہیں سیاہ اب بھی اعمال ترےتو زلف بتاں بنا ہوا ہے اب تکدنیا پہ ہنوز پڑتے ہیں جال ترے
۸۱ / ۱۴۶