کلامِ انیسردیف ح

شہید عشق ہوئے قیس نامور کی طرح

۱

شہید عشق ہوئے قیس نامور کی طرحجہاں میں عیب بھی ہم نے کیے ہنر کی طرح

۲

کچھ آج شام سے چہرہ ہے فق سحر کی طرحڈھلا ہی جاتا ہوں فرقت میں دوپہر کی طرح

۳

سیاہ بختوں کو یوں باغ سے نکال اے چرخکہ چار پھول تو دامن میں ہوں سپر کی طرح

۴

تمام خلق ہے خواہان آبرو اے ربچھپا مجھے صدف قبر میں گہر کی طرح

۵

تجھی کو دیکھوں گا جب تک ہیں برقرار آنکھیںمری نظر نہ پھرے گی تری نظر کی طرح

۶

ہماری قبر پہ کیا احتیاج‌ عنبر و عودسلگ رہا ہے ہر اک استخواں اگر کی طرح

۷

نحیف و زار ہیں کیا زور باغباں سے چلےجہاں بٹھا دیا بس رہ گئے شجر کی طرح

۸

تمہارے حلقہ بہ گوشوں میں ایک ہم بھی ہیںپڑا رہے یہ سخن کان میں گہر کی طرح

۹

انیسؔ یوں ہوا حال جوانی و پیریبڑھے تھے نخل کی صورت گرے ثمر کی طرح

۱ / ۹۰