کلامِ انیسردیف ر

سنبلِ تر ہے پریشاں زلفِ اکبر دیکھ کر

۱

سنبلِ تر ہے پریشاں زلفِ اکبر دیکھ کرکٹ گیا ہے ماہِ تاباں روئے انور دیکھ کر

۲

آب ہو جائے گا حُسنِ روئے اکبر دیکھ کرسامنے آئینہ لانا، اے سکندر دیکھ کر

۳

جب چلی اعدا پہ تیغِ شہ، پکارے جبرئیلیا حُسین ابنِ علی! خادم کے شہپر دیکھ کر

۴

حشر تھا اہلِ حرم میں وقتِ قتلِ شاہِ دیںروتے تھے دشمن بھی شہ کو زیرِ خنجر دیکھ کر

۵

خم ہوئی شہ کی کمر، ہاتھوں کی طاقت گھٹ گئیدونوں شانوں سے قلم، دستِ برادر دیکھ کر

۶

کی رسائی بختِ حُر نے جب، تو پہنچا شہ کے پاسآ گیا خود راہ پر جنت کا رہبر دیکھ کر

۷

جب جھپٹ کر بابِ خیبر کو اکھاڑا آپ نےہو گئے کفار ششدر، زورِ حیدر دیکھ کر

۸

کربلا کے بَن میں جا پہنچے جو شاہِ بحر و برخوش ہوئے مقتل کو سب انصار و یاور دیکھ کر

۹

مسکرائے دیکھ کر صحرا کو ہم شکلِ نبیتن گئے دریا کو عباسِ دلاور دیکھ کر

۱۰

ہو چکیں جس وقت مُہریں فردِ قتلِ شاہ پررو دیے خود شاہ اپنے خوں کا محضر دیکھ کر

۱۱

خاک پر بے دم پڑے ہیں سب عزیز و اقرباروتے ہیں شبیر لاشوں کو برابر دیکھ کر

۱۲

کہتے تھے یہ حلق ہے نانا کا میرے حلق پرپھیرنا شمشیر او شمرِ ستمگر دیکھ کر

۱۳

خلد میں یاد آئی جب عباس کو بچوں کی پیاسرو دیا وہ با وفا بھی سوئے کوثر دیکھ کر

۱۴

پیشِ خالق سب ہیں یکساں، رشک او غافل نہ کرآپ کو کم دیکھ کر، اوروں کو برتر دیکھ کر

۱۵

آسماں پر شرم سے برقِ درخشاں چھپ گئیذوالفقارِ حیدرِ صفدر کے جوہر دیکھ کر

۱۶

صُرّۂ خاکِ شفا سے یوں کھِلا تربت میں دلجس طرح بلبل ہو بالیدہ گُلِ تر دیکھ کر

۱۷

کربلا کو ہند سے جاتے اگر ہم اے انیسشاد ہو جاتے وہ صحرائے منور دیکھ کر

۲ / ۹۰