جب زلف کو کھولے ہوئے لیلائے شب آئی

لڑتا تھا غضب ایک کے بعد ایک وفاداردن چڑھتا تھا یاں، گرم تھا واں موت کا بازارسر بیچتے تھے، جنسِ شہادت کے طلبگاربڑھ بڑھ کے خریدار پہ گرتا تھا خریدارلیں پہلے، ہم ایک ایک کی جاں اس کی بڑی تھیعقبیٰ کا جو سودا تھا تو قیمت بھی کڑی تھی

About this couplet

This is couplet 104 of 150 in “⁨جب زلف کو کھولے ہوئے لیلائے شب آئی⁩” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Babar Ali Anis's Urdu book Kalam-e-Anis (⁨کلامِ انیس⁩).

Read it in the poem

۱۰۴ / ۱۵۰