کلامِ انیسمثنویات، مراثی و دیگر

جب زلف کو کھولے ہوئے لیلائے شب آئی

۱

جب زلف کو کھولے ہوئے لیلائے شب آئیپردیس میں سادات پہ، آفت عجب آئیفریاد کناں روح امیر عرب آئیغل تھا کہ شب قتل شہ تشنہ لب آئیسادات کو کیا کیا غمِ جانکاہ دکھائےرات ایسی مصیبت کی نہ اللہ دکھائے

۲

کاغذ پہ لکھے کیا قلم اس شب کی سیاہیہے چار طرف جس کی سیاہی سے تباہیمرغان ہوا بر میں طپاں، بحر میں ماہیتربت سے نکل آئے تھے محبوب الٰہیفریاد کا تھا شور رسولان سلف میںیثرب میں تزلزل تھا اداسی تھی نجف میں

۳

صدمے سے ہوا رنگ رخ ماہ کا کافوراختر بھی بنے مردمک دیدۂ بے نورغم چھا گیا، راحت دل عالم سے ہوئی دورتصویر الم بن گئی جنت میں ہر اک حورکہتے تھے ملک رات نہ ہووے گی اب ایسیتاروں نے بھی دیکھی نہ تھی تاریک شب ایسی

۴

شمع طرب محفل عالم تھی جو خاموشتھی رات بھی شبیرؔ کے ماتم میں سیہ پوشکیا غم تھا کہ شادی تھی ہر اک دل کو فراموشہر چشم کو تھا غم میں سمندر کی طرح جوشمضطر تھے علیؔ اشکوں سے منہ دھوتی تھی زہراؔمقتل تھا جہاں شاہ کا، واں روتی تھی زہراؔ

۵

تھا خانۂ غم خیمۂ شاہنشہ والاآندھی یہ پریشاں تھی کہ دل تھا تہ و بالامشعل نہ ٹھہرتی تھی، نہ شمعوں کا اجالاخیمہ بھی اندھیرے میں نظر آتا تھا کالاخاک اڑتی تھی منہ پر، حرم شیر خدا کےتھا چیں بجبیں فرش بھی جھونکوں سے ہوا کے

۶

جنگل کی ہوا، اور درندوں کی صدائیںتھراتی تھیں بچوں کو چھپائے ہوئے مائیںدھڑکا تھا کہ دہشت سے نہ جانے کہیں جائیںروتی تھی کوئی، اور کوئی پڑھتی تھی دعائیںگودوں میں بھی راحت نہ ذرا پاتے تھے بچےجب بولتے تھے شیر تو ڈر جاتے تھے بچے

۷

بچوں کے بلکنے پہ حرم کرتے تھے زاریغش ہو گئی تھی بالی سکینہؔ کئی باریچلاتی تھی رو رو کے وہ شبیرؔ کی پیارییا حضرت عباسؔ چلی جان ہماریافسوس کہ پانی کا تو قطرہ نہیں گھر میںاور آگ لگی ہے مرے ننھے سے جگر میں

۸

تھی سب سے سوا، بنت علی، مضطر و بیتابفق ہو گیا تھا شام سے منہ صورت مہتابمژگاں سے رخ پاک پہ تھی، بارش خوں نابتلوار کلیجے پہ چلے جب تو کہاں تاباِک کرب تھا بسمل کی طرح جان حزیں پراٹھتی تھی کبھی اور کبھی گرتی تھی زمیں پر

۹

کہتی تھی کبھی، آج پیمبر نہیں ہے ہےحال اپنا دکھاؤں کسے حیدرؔ نہیں ہے ہےبیٹی پہ فلک ٹوٹا ہے، مادر نہیں ہے ہےشبیرؔ مصیبت میں تھے، شبرؔ نہیں ہے ہےدیکھا نہ سنا یہ جو ستم آج ہے لوگونازوں کا پلا پانی کو محتاج ہے لوگو

۱۰

در پیش ہے کل فوج سمتگر سے لڑائییاں تھوڑے سے پیاسے ہیں، ادھر ساری خدائیبے سر دیے رن سے نہ پھرے گا مرا بھائیہو جائے گی حیدرؔ کے بھرے گھر کی صفائیاس غم سے سدا اشکوں سے منہ دھوتی تھیں اماںکل دن وہ ہے جس دن کے لئے روتی تھی اماں

۱۱

تھے دوسرے خیمہ میں ادھر سبط پیمبردربار میں حاضر تھے رفیقان دلاوراک پہلو میں قاسمؔ تھے اور اک پہلو میں اکبرؔاکبرؔ کے ادھر لخت دل زینب مضطرشبیرؔ محبت سے سخن کرتے تھے سب سےعباسؔ علی سامنے بیٹھے تھے ادب سے

۱۲

سر گرم تھے مر جانے پہ، سب شاہ کے انصارعباس سے یہ کہتا تھا، وہ کل کا مدد گارتم رہیو ذرا خیمۂ ناموس سے ہشیارڈر ہے نہ کرے بے ادبی لشکر کفاربے دینوں کو راحت مری منظور نہیں ہےشب خوں جو ادھر سے ہو، تو کچھ دور نہیں ہے

۱۳

یہ ذکر ابھی تھا کہ یکایک خبر آئیاے چاند ید اللہ کے، شب دوپہر آئیحضرت کو ستاروں کی جو گردش نظر آئیدل یاد خدا کرنے لگا، چشم بھر آئیفرمایا بڑا اجر ہے، بیدارئ شب کااے تشنہ لبو وقت ہے یہ طاعت رب کا

۱۴

اب عمر بھی آخر ہے، نمازیں بھی ہیں آخربے توشہ پہونچتا نہیں، منزل پہ مسافرہر وقت ہے ربِ دو جہاں حاضر و ناظراجر ان کے مضاعف ہیں جو ہیں صابر و شاکرمشکل نہ کسی رنج کو سمجھے نہ بلا کوبندہ وہی بندہ ہے جو بھولے نہ خدا کو

۱۵

نام اس کا رہے ورد، سفر ہو کہ حضر ہوموجود سمجھ لے اسے جنگل ہو کہ گھر ہوسجدے ہی کرے دکھ میں کہ راحت میں بسر ہوتسبیح میں شب ہو، تو نمازوں میں سحر ہوعشق گل تر ظلم کے خاروں میں نہ بھولےمعشوق کو تلواروں کی دھاروں میں نہ بھولے

۱۶

چومے لب سوفار، جو سینے پہ لگیں تیردم عشق کا بھرتا رہے زیر دم شمشیرزخموں کو یہ سمجھے، کہ ملا گلشن توقیرتکبیر کا نعرہ ہو زباں پر، دم تکبیرکٹنے میں رگوں کے نہ صدا آہ کی نکلےہر رنگ میں بو الفت اللہ کی نکلے

۱۷

شہ نے سخن معرفت حق جو سنائےاشک آنکھوں میں ہر عاشق صادق کے بھر آئےکچھ پیاس کا شکوہ بھی زباں پر نہیں لائےسجادے وہیں لا کے دلیروں نے بچھائےتکبیریں ہوئیں لشکر اللہ و نبی میںسب محو ہوئے یاد جناب احدی میں

۱۸

تسبیح کہیں تھی کہیں سجدے کہیں زاریتھا صوت حسن سے کوئی قرآن کا قاریکرتا تھا کوئی عرض کہ یا حضرت باریاب صبح کو عزت ہے ترے ہاتھ ہماریحرمت سے شریک شہدا کیجیو یا ربتو حوصلۂ صبر، عطا کیجیو یا رب

۱۹

ہم ہیں ترے محبوب کے پیارے کے مددگارمرنے کے لئے آئے ہیں یا چھوڑ کے گھر باریہ بندۂ بے کس ہے مصیبت میں گرفتارکر رحم کہ ہے ذات تری راحم و غفارفاقوں کے سبب، جسم کی طاقت میں کمی ہےتجھ سے طلب قوت ثابت قدمی ہے

۲۰

بے کس ہیں مسافر ہیں، وطن دور ہے، گھر دورہفتم سے ہمیں گھیرے ہے یہ لشکر مقہورتیروں سے ہوں غربال کہ تیغوں سے بدن چوراحمدؔ کے نواسے سے جدائی نہیں منظورپھر منہ کسے دکھلائیں جو سردار کو چھوڑیںکیوں کر ترے مقبول کی سرکار کو چھوڑیں

۲۱

مردوں کے لئے ننگ ہے تلواروں سے لڑناراحت ہو کہ ایذا، یہیں جینا، یہیں مرناتو چاہے تو مشکل نہیں کچھ سر سے گزرنااے کل کے مدد گار، مدد جنگ میں کرنافاقوں میں ہزاروں سے وغا ہو تو مزا ہےکچھ حق نمک ہم سے ادا ہو تو مزا ہے

۲۲

کرتے تھے مناجات ادھر یاور و انصارپڑھتے تھے نماز شب ادھر، سید ابرارتھی نیت تسبیح بتول جگر افگارآواز بکا خیمے سے آنے لگی یک باراکبرؔ سے اشارہ کیا مڑ کر، کہ یہ کیا ہےکہ عرض پھوپھی جان کے رونے کی صدا ہے

۲۳

یوں تو کئی راتوں سے وہ ہیں مضطر و بیتابراحت کی نہ صورت ہے نہ آرام کا اسبابغش میں جو ذرا بند ہوئے، دیدۂ پر آبروتی ہوئی چونکی ہیں، ابھی دیکھ کے کچھ خوابنعلین کہیں، چادر پر نور کہیں ہےاس وقت سے بسمل کی طرح چین نہیں ہے

۲۴

سب بیبیاں ہیں رو رہیں بچوں کو لیے پاسایک ایک کو اندیشہ ہے، ایک ایک کو وسواسجو پوچھتا ہے وجہ تو کہتی ہیں بصد یاسلوگو مجھے شبیر کے بچنے کی نہیں آسمانگو یہ دعا غیب سے بے کس کی مدد ہوصدقے کرو مجھ کو کہ بلا بھائی کی رد ہو

۲۵

ان کا تو یہ احوال ہے، اماں کا یہ عالماشکوں کی جھڑی آنکھوں سے تھمتی نہ تھی اِک دماصغرؔ کی بھی ہے فکر، سکینہ کا بھی ہے غمشش ماہ کا بچہ بھی ہوا جاتا ہے بے دمگودی میں اٹھائیں اُسے یا اس کو سنبھالیںدو روز کے فاقے میں وہ کس کس کو سنبھالیں

۲۶

رو آتی ہیں عابدؔ کے سرہانے کبھی جا کرگہوارۂ اصغرؔ پہ کبھی گرتی ہیں آ کرقرآں کی ہوا دیتی ہیں غش میں اسے پا کربہلاتی ہیں، بیٹی کو کبھی اشک بہا کروہ کہتی ہے تا صبح یوں ہی روؤں گی اماںبابا ہی جب آویں گے تو میں سوؤں گی اماں

۲۷

بتلاؤ شہ جن و بشر کیوں نہیں آتےاب رات بہت کم ہے، پدر کیوں نہیں آتےآزردہ ہیں کچھ مجھ سے، ادھر کیوں نہیں آتےکیا آج وہیں سوئیں گے، گھر کیوں نہیں آتےاب پیاسوں کی فریاد بھی بابا نہیں سنتےحضرت مرے رونے کی صدا کیا نہیں سنتے

۲۸

رو کر علیؔ اکبر نے جو کی شہ سے یہ تقریرپڑھتے ہوئے تسبیح گئے، حضرت شبیرؔدیکھی جو نہ تھی دیر سے وہ چاند سی تصویرقدموں پہ محبت سے گری دوڑ کے ہمشیربیتاب جو پایا بہت اس تشنہ دہن کوشبیرؔ نے لپٹا لیا چھاتی سے بہن کو

۲۹

فرمایا بہن تم نے بنایا ہے یہ کیا حالنہ سر پہ عصابہ ہے نہ چادر ہے نہ رومالماتھا ہے بھرا خاک سے بکھرے ہوئے ہیں بالپیٹو نہیں، جیتا ہے ابھی فاطمہؔ کا لالدم تن سے مرا کٹ کے نکل جائے گا زینبؔرو لیجیو جب رونے کا وقت آئے گا زینبؔ

۳۰

جیتا ہوں میں اور آہ ابھی سے یہ تلاطمیہ کرب یہ دکھ درد، یہ زاری یہ تظلمہوتے ہیں مرے ہوش و حواس آئے ہوئے گمخنجر کے تلے دیکھو گی کس طرح مجھے تمبس صبر کرو جی سے گذر جائیں گے بچےتڑپو گی تم اس طرح تو مر جائیں گے بچے

۳۱

تلوار کسی نے ابھی تولی نہیں مجھ پرسینہ ابھی تیروں سے مشبک نہیں خواہرگردن پہ کسی نے ابھی پھیرا نہیں خنجرمر جائے گا بھائی تمہیں ثابت ہوا کیوں کرہر چند کہ ساعت نہیں ٹلتی ہے قضا کیبچ جاؤں تو کیا دور ہے قدرت سے خدا کی

۳۲

زینبؔ نے کہا خوش ہوں جو میری اجل آئےبھائی تمہیں اللہ اس آفت سے بچائےخالق مجھے عابدؔ کی یتیمی نہ دکھائےبھائی کی بلا لے کے بہن خلق سے جائےوسواس طبیعت کو بہلنے نہیں دیتابے چین ہے دل مجھ کو سنبھلنے نہیں دیتا

۳۳

آتا ہے سکینہؔ کی یتیمی کا، مجھے دھیانہر وقت بھرا گھر نظر آ جاتا ہے، ویرانسمجھانے سے کچھ دل جو بہلتا ہے، میں قربانپھر جاتا ہے آنکھوں کے تلے موت کا سامانبازو مرے کسنے کو رسن لاتا ہے کوئیسر پر سے ردا کھینچے لئے جاتا ہے کوئی

۳۴

منہ ڈھانپ کے بستر پہ جو سو جاتی ہوں دم بھرتو چاک گریباں نظر آتے ہیں پیمبراماں کبھی چلاتی ہیں یوں کھولے ہوئے سربیٹی نہ بچے گا ترا مظلوم برادرکیا لیٹی ہے بستر پہ کدھر دھیان ہے زینبؔشپیر اسی رات کا مہمان ہے زینبؔ

۳۵

یہ ذکر ابھی تھا کہ سکینہؔ نے پکاراسونا تو گیا آپ کے ہمراہ ہمارامیں جاگتی ہوں اور جہاں سوتا ہے ساراگردوں پہ چمکنے نہ لگے صبح کا تارانیند آئی ہے بیٹی کو سلا جایئے بابابس ہو چکیں باتیں اب ادھر آیئے بابا

۳۶

حضرت نے کہا میں تِری آواز کے قرباںاللہ تم اب تک نہیں سوئی ہو مری جاںغربت میں کہاں راحت و آرام کا ساماںبن باپ کے تم کو تو نہیں چین کسی آںاچھی نہیں عادت یہ نہ رویا کرو بی بیپہلو میں کبھی ماں کے بھی سویا کرو بی بی

۳۷

کیا ہووئے جو ہم گھر میں کسی شب کو نہ آئیںمجبور ہوں ایسے کہ تمہیں چھوڑ کے جائیںتم پاؤ نہ ہم کو، نہ تمہیں ہم کہیں پائیںبی بی کہو پھر چھاتی پہ کس طرح سلائیںجنگل میں بہت قافلے لٹ جاتے ہیں، بی بیبرسوں جو رہے ساتھ وہ چھٹ جاتے ہیں، بی بی

۳۸

جب عمر تھی کم، ہم بھی چھٹے تھے یونہی ماں سےسوتے تھے لپٹ کر یوں ہی، خاتون جناں سےکوچ ان کا ہوا سامنے آنکھوں کے جہاں سےماتم سے ملیں وہ، نہ بکا سے، نہ فغاں سےیہ داغ یہ اندوہ و الم سب کے لئے ہیںماں باپ زمانے میں سدا کس کے جیے ہیں

۳۹

رستہ وہ اجل کا ہے کہ ہوتا ہی نہیں بندکوچ آج پدر کا ہے تو کل جائے گا فرزندہوتا ہے قلق فرقت اولاد میں وہ چندکیا زور ہے بندے کا، جو مرضیٔ خداوندجو آئے ہیں دنیا میں وہ سب کوچ کریں گےاس زیست کا انجام یہی ہے کہ مریں گے

۴۰

یہ کہتے تھے حضرت کی صدا آئی اذاں کیگلدستۂ اسلام پہ، بلبل نے فغاں کیاک دم میں بہار اور ہوئی باغ جہاں کیتلوار چلی گلشن انجم پہ خزاں کیمہتاب ہوا گم فلک نیلوفری سےپھولا گل خورشید، نسیم سحری سے

۴۱

گرمی کی سحر اور وہ پھولوں کا مہکنامرغان چمن کا وہ درختوں پہ چہکناانجم کا وہ چھپنا کبھی اور گاہ چمکناوہ سرد ہوا اور وہ سبزے کا لہکنااس دشت میں روتی تھی جو شبنم شہ دیں پرتھا موتیوں کا فرش زمرد کی زمیں پر

۴۲

جلوہ وہ دم صبح کا، وہ نور کا عالمدلچسپ صدا نوبت و شہنا کی، وہ باہمسرخی وہ شفق کی، افق چرخ پہ کم کموہ گل کے کٹوروں پہ در افشانیٔ شبنمخشکی میں بھی سردی سے ترائی کا سماں تھاپر مالک گلزار جناں، تشنہ دہاں تھا

۴۳

لشکر میں ادھر مورچے بندی کی ہوئی دھومیاں فرض ادا کرنے لگے عاشق قیومپیچھے تو جماعت تھی اور آگے شہ مظلومصف بستہ ملائک ہیں، یہی ہوتا تھا معلومسب ساجد و راکع تھے شہنشاہ کے ہمراہتاباں تھے بہتر مہ نو ماہ کے ہمراہ

۴۴

خیمہ تھا فلک، آپ قمر، دوست ستارےتارے بھی وہ تاروں کو فلک جن پہ اتارےخم ہو گیا تھا، پیر فلک شرم کے مارےکہتی تھی زمیں، اوج ہے طالع کو ہمارےخورشید نہیں روشنیٔ نیر دیں ہےخود عرش کو دھوکا تھا، یہ میں ہوں کہ زمیں ہے

۴۵

جو صف ہے وہ اک سطر ہے قران مبیں کیدیوار ہے قبلہ کی طرف، کعبۂ دیں کیکیا خوب جماعت ہے یہ ارباب یقیں کیافلاک کی زینت ہے تو رونق ہے زمیں کیکس طرح شہنشاہ سے وہ فوج جدا ہومشکل ہے کہ دریا سے کہیں موج جدا ہو

۴۶

اس دم تھی یہ آواز پس پردۂ قدرتاے قدسیو دیکھو مرے بندوں کی عبادتنہ پیاس کا شکوہ ہے، نہ فاقوں کی شکایتیہ زہد، یہ تقویٰ، یہ اطاعت، یہ ریاضتکونین میں یہ صاحب اقبال و شرف ہیںعالم ہوں کہ ان لوگوں کے دل میری طرف ہیں

۴۷

کس عجز سے آگے مرے حاضر ہیں یہ بندےدیکھو مرے محبوب کے ناصر ہیں، یہ بندےمظلوم ہیں بے کس ہیں مسافر ہیں یہ بندےتھوڑے نہ ہوں کس طرح کے شاکر ہیں یہ بندےصادق ہیں ولی سے مرے ان سب کو ولا ہےان کا وہ صلہ ہے جو رسولوں کا ملا ہے

۴۸

پرسش نہ لحد میں نہ حساب اُن کے لئے ہےیہ لائق رحمت ہیں، ثواب اُن کے لئے ہےموتی سے جو ہے صاف، وہ آب اُن کے لئے ہےمیں جس کا ہوں ساقی، وہ شراب اُن کے لئے ہےاس نخل ریاضت کے ثمر اُن کو ملیں گےجو عرش کے نیچے ہیں وہ گھر اُن کے ملیں گے

۴۹

فارغ جو صلوٰۃ سحری سے ہوئے دیں دارپوشاک پہننے کو اٹھے سید ابرارفرمانے لگے حضرت عباسؔ علمدارہاں غازیو اب تم بھی سجو جنگ کے ہتھیارقرباں تمہیں ہونا ہے محمدؔ کے پسر پرکمروں کو کسو، گلشن جنت کے سفر پر

۵۰

آمادۂ شر لشکر کفار ہے کل سےہونا ہے تمہیں آج، ہم آغوش اجل سےدر پیش ہے جنگ و جدل اس فوج کے دَل سےآقا بھی کوئی دم میں نکلتے ہیں محل سےہاں صف شکنو وقت ہے نصرت کی دعا کاکھلتا ہے پھریرا علم فوج خدا کا

۵۱

ہم لوگ اسی روز کے مشتاق ہیں، کب سےاب ہوگی ملاقات شہنشاہ عرب سےسیدانیاں تم سب کو دعا دیتی ہیں شب سےصف باندھ کے آؤ، درِ دولت پہ ادب سےفردوس میں نانا سے حضور آج ملیں گےکوثر پہ تمہیں خلعت نور آج ملیں گے

۵۲

اس مژدہ کو سنتے ہی مسلح ہوئے غازیاصطبل سے آنے لگے جراروں کے تازیشیر صف جنگاہ تھا، ایک ایک نمازینعرے تھے کہ قربان شہنشاہ حجازیڈیوڑھی پہ شگفتہ تھا چمن خلد بریں کاخیمہ میں تلاطم تھا وداع شہ دیں کا

۵۳

تھے گرد حرم بیچ میں وہ عاشق حق تھامانند سحر رنگ ہر اک بی بی کا فق تھابانوے دو عالم کا جگر سینے میں شق تھازینب یہ تڑپتی تھی کہ حضرت کو قلق تھاشبیرؔ کے پہلو سے نہ ہٹتی تھی سکینہؔبڑھتے تھے تو دامن سے لپٹتی تھی سکینہؔ

۵۴

شہ کہتے تھے بی بی ہمیں اب جانے دو گھر سےسینہ مرا شق ہوتا ہے، لپٹو نہ پدر سےوہ کہتی تھی سایہ جو یہ اٹھ جائے گا سر سےہے ہے میں تمہیں ڈھونڈ کے لاؤں گی کدھر سےبیٹی کا سوا آپ کے کوئی نہیں باباشب بھر میں اسی خوف سے سوئی نہیں بابا

۵۵

سمجھاتے تھے حضرت کہ میں صدقے مری پیاریمیداں سے ابھی آئیں گے ہم تو کئی باریوہ کہتی تھی میں آپ کی مظلومی کی واریساماں نظر آتا ہے یتیمی کا ہماریدر پیش لڑائی نہیں گر فوج شقی سےکیوں آپ سفارش مری کرتے تھے پھوپھی سے

۵۶

اب آپ کے جانے سے تو ثابت ہے نہ آناکیوں کہتے تھے زینب اسے چھاتی سے سلانابانو مرے پیچھے، نہ سکینہ کو رلاناپانی جو میسر ہو تو پیاس اس کی بجھانابہلائیو جب رو کے مجھے یاد کرے گیتڑپوں گا لحد میں جو یہ فریاد کرے گی

۵۷

میں سنتی تھی عابدؔ سے جو کچھ کی تھی وصیتاس گھر کی تباہی کی خبر دیتے تھے حضرتہے ہے یہ مری عمر یہ صدمہ یہ مصیبتلے لو مجھے ہمراہ، گوارہ نہیں فرقتساتھ آپ کے جاؤں گی جو اس دار محن سےکوئی مری گردن تو نہ باندھے گا رسن سے

۵۸

نادان کی ان باتوں پہ گھر روتا تھا ساراماتم میں کسی دل کو نہ تھا، صبر کا یاراحضرت کو بھی فرقت تھی نہ بیٹی کی گواراڈیوڑھی تک اسے گود سے اپنی نہ اتاراجس دم وہ چھٹی، جیتے ہی جی مرگئے شپیرؔکس درد سے روتے ہوئے باہر گئے شپیرؔ

۵۹

جس دم در دولت پہ امیر امم آیاپیٹے یہ حرم گھر میں کہ ہونٹوں پہ دم آیاتسلیم کو اسلام کا، لشکر بہم آیاکس صولت و اقبال و حشم سے علم آیاجاتی تھی لچکنے میں ضیا عرش تک اس کیخورشید کو پنجہ میں لئے تھی چمک اس کی

۶۰

آپس میں یہ کہتے تھے رفیقان دلاوردیکھیں یہ ہُما سایہ فگن ہوتا ہے کس پراکبرؔ کے تو ہے نام پہ سالاریٔ لشکرعباسؔ کو دیں گے شہ دیں منصب جعفرؔاِک عشق ہے اس شیر سے سلطان امم کوبھائی کو کبھی دیکھتے ہیں، گاہ علَم کو

۶۱

زینبؔ کے پسر مشورہ یہ کرتے تھے باہمکیوں بھائی علَم لینے کو ماموں سے کہیں ہمتائید خدا چاہئے گو عمر میں ہیں کمعہدہ تو ہمارا ہے یہ آگاہ ہے عالمواقف ہیں سبھی حیدرؔ و جعفرؔ کے شرف سےحق پوچھو تو حقدار ہیں ہم دونوں طرف سے

۶۲

دادا بھی علمدار ہے، نانا بھی علم دارہم اپنے بزرگوں کے ہیں، منصب کے طلب گارکہتا تھا بڑا عرض کا موقع نہیں زنہارہیں بادشہ کون و مکاں مالک و مختارعہدہ تو بڑا یہ ہے کہ ماموں پہ فدا ہوںچپکے رہو، اماں نہ کہیں سن کے خفا ہوں

۶۳

مطلب نہ علم سے نہ حشم سے ہمیں کچھ کاممٹ جائیں نشاں، بس یہی عہدہ ہے یہی نامیہ سر ہوں نثار قدم شاہ خوش انجامعزت رہے بھائی، یہ دعا ہے سحرو شامآقا جسے چاہیں علم فوج خدا دیںمشتاق اجل ہیں ہمیں مرنے کی رضا دیں

۶۴

روتی تھی جو پردے کے قریں زینبؔ دلگیرسب اس نے مفصل یہ سنی بیٹوں کی تقریرفضہؔ سے یہ کہنے لگی، وہ صاحب توقیردونوں کو اشارے سے بلا لے کسی تدبیرکچھ کہنا ہے سن لیں اسے فرصت انہیں گر ہوعباسؔ نہ دیکھیں نہ شہ دیں کو خبر ہو

۶۵

یہ کہتی تھی زینبؔ کہ خود آئے وہ نکو کارچھوٹے سے یہ فرمانے لگیں زینبؔ ناچارکیا باتیں ابھی بھائی سے تھیں، اے مرے دلداراس وقت میں ہو کون سے منصب کے طلب گارسمجھے نہ کہ مادر عقب پردہ کھڑی ہےگھر لٹتا ہے میرا، تمہیں منصب کی پڑی ہے

۶۶

اللہ بڑا عزم کیا، باندھ کے تلواربچو! تمہیں ایسا نہ سمجھتی تھی میں زنہاردیکھو ابھی تم دونوں سے ہو جاؤں گی بے زارکچھ کہیو نہ ماموں سے خبردار! خبردارکیا دخل تمہیں امر میں سلطان امم کےدیکھوں گی نہ پھر منہ، جو گئے پاس علم کے

۶۷

کچھ اور ہی تیور ہیں علم نکلا ہے جب سےتم کون ہو جو آگے بڑھے جاتے ہو سب سےاستادہ ہو، جا کر عقب شاہ، ادب سےعہدہ ہے یہ جس کا مجھے معلوم ہے شب سےاس امر میں خاطر نہ کریں، اور کسی کیمیں خوش ہوں بجا لائیں وصیت کو علیؔ کی

۶۸

دو روز سے بھائی پہ مرے ظلم و ستم ہےتم فکر علم میں ہو مجھے سخت الم ہےچھوٹے سے ہیں قد، سِن بھی تمہارا ابھی کم ہےکھیل اس کو نہ سمجھو یہ محمدؔ کا علم ہےہرگز نہ ابھی کچھ شہِ ذی جاہ سے کہناکہنا بھی تو رخصت کے لئے شاہ سے کہنا

۶۹

مانا کہ پہونچتا ہے تمہیں منصب جعفرؔآقا کی غلامی سے ہے عہدہ کوئی بڑھ کرچھوٹا مرا بھائی بھی ہے، بیٹوں کے برابرعاشق کا تو عاشق ہے، برادر کا برادربگڑوں گی گلہ گر کوئی اسلوب کرو گےعباس سے کیا تم مجھے ممجوب کرو گے

۷۰

زینبؔ نے عتابانہ جو کی ان سے یہ گفتاریوں کہنے لگے، جوڑ کے ہاتھوں کو وہ دلدارشاہوں سے غلاموں نے بھی کی ہے، کبھی تکرارمالک ہیں جسے چاہیں علم دیں، شہ ابراررخصت کے لئے تیغ و سپر باندھے ہوئے ہیںہم صبح سے مرنے پہ کمر باندھے ہوئے ہیں

۷۱

زینبؔ نے کہا لے کے بلائیں کہ سدھاروبس اب مرا دل شاد ہوا اے مرے پیاروماں صدقے گئی، سر قدم شاہ پہ واروہو عید مجھے گر عمرؔ و شمرؔ کو مارویہ وقت ہے امداد امام ازلی کادے چھوٹے سے ہاتھوں میں خدا زور علیؔ کا

۷۲

صدقے گئی سن لو کہ میں کہتی ہوں جتا کرتم پہلے فدا کیجیو سر شہ کے قدم پرمیدان میں زخمی ہوئے گر قاسمؔ و اکبرؔپھر تم مرے فرزند نہ میں دونوں کی مادرجب دل ہوا ناراض تو فرزند کہاں کےکس کام کا وہ لعل جو کام آئے نہ ماں کے

۷۳

ان میں سے اگر رن کی طرف ایک سدھارازہراؔ کی قسم منہ نہ میں دیکھوں گی تمہاراجس وقت سنوں گی کہ سر ان دونوں نے وارااس وقت تمہیں ہوگا مرا دودھ گوارابے جاں ہوئے بعد ان کے، تو ماتم نہ کروں گیدیکھو جو مروں گی بھی تو ناراض مروں گی

۷۴

ہیں دونوں بھتیجے، مرے پیارے مرے محبوبتم ان پہ تصدق ہو، یہی ہے مجھے مطلوبجینا نہیں بہتر کسی صورت، کسی اسلوببے سر دیے دودھ اپنا میں بخشوں تمہیں، کیا خوبایذا جو اٹھاؤ گے تو راحت بھی ملے گیجب آئیں گی لاشیں تو یہ دولت بھی ملے گی

۷۵

دیکھو کہے دیتی ہوں خبردار! خبردارجیتے جو رہے دودھ نہ بخشوں گی میں زنہارشیروں کے یہ ہیں کام کھنچے جس گھڑی تلواررکھ دیویں گلا بڑھ کے، تہِ خنجرِ خوں خوارتوڑی ہیں صفیں جنگ میں جب کھیت پڑے ہیںجنات کے لشکر سے علیؔ یوں ہی لڑے ہیں

۷۶

اعدا کو مرے دودھ کی تاثیر دکھاؤاجلالِ حسن شوکتِ شبیر دکھاؤجعفرؔ کی طرح جوہرِ شمشیر دکھاؤتن تن کے ید اللہ کی تصویر دکھاؤخورشیدِ امامت سے قرابت میں قریں ہوتم شیر ہو شیروں کے حسینوں کے حسیں ہو

۷۷

جعفر سے نمودار کے دلبر ہو دلیروحیدر سے دلاور کے دلاور ہو دلیروجرار ہو، کرار ہو، صفدر ہو دلیروضرغام ہو، ضیغم ہو، غضنفر ہو دلیروتیروں سے جوانوں کے جگر توڑ کے آؤخیبر کی طرح کوفے کا در توڑ کے آؤ

۷۸

خندق کی لڑائی کی طرح جنگ کو جھیلوبچے اسد اللہ کے ہو، جان پہ کھیلوتیغوں میں دھنسو، چھاتیوں سے نیزوں کو ریلوکوفے کو تہِ تیغ کرو، شام کو لے لودو اور جلا آئینۂ تیغِ عرب کولو روم کو قبضے میں تو قابو میں حلب ہے

۷۹

خاقاںؔ کا رہا تخت نہ قیصرؔ کا رہا تاجہاں غازیو! چین و حبش و زنگ سے لو باجچڑھنا ہے لڑائی پہ جواں مردوں کو معراجگیتی تہ و بالا ہو وہ تلوار چلے آجیوں آئیو چار آئینہ پہنے ہوئے بر میںجس طرح علیؔ بعد ظفرؔ آتے تھے گھر میں

۸۰

میلے نہ ہوں تیور، یہ سپاہی کے ہنر ہیںجس کے ہیں، بس اس کے ہیں، جدھر ہیں بس ادھر ہیںگہ عطر میں ڈوبے ہیں، گہے خون میں تر ہیںصحبت میں مصاحب ہیں، لڑائی میں سپر ہیںوہ اور کسی سے نہ جھکیں گے نہ جھکے ہیںعزت میں نہ فرق آئے کہ سر بیچ چکے ہیں

۸۱

یہ سن کے جو نکلے وہ جری خیمے سے باہرکس پیار سے منہ دونوں کا تکنے لگے سروراکبرؔ نے یہ کی عرض کہ اے سبطِ پیمبرتیار ہے سب قبلۂ کونین کا لشکرجلدی ہے لڑائی کی ادھر فوجِ ستم کوارشاد جسے ہو وہ بڑھے لے کے علم کو

۸۲

شہ بولے کہ عباسِؔ دلاور کو بلاؤپیارے مرے محبوب برادر کو بلاؤعاشق کو مددگار کو یاور کو بلاؤجلدی مرے حمزہؔ مرے جعفرؔ کو بلاؤیہ اوج، یہ رتبہ، یہ حشم اس کے لئے ہےزیب اس سے علم کی ہے، علم اس کے لئے ہے

۸۳

سب تکنے لگے صورتِ عباس فلک جاہنازاں ہوا خود اوج پہ اپنے علمِ شاہیعنی مرا عامل ہے نشانِ اسد اللہبالیدہ تھا پرچم، تو پھریرا تھا ہوا خواہجان آ گئی تھی سنتے ہی اس خوشخبری کوپنجہ بھی اشارے سے بلاتا تھا جری کو

۸۴

خوش ہو کے یہ عمّو کو پکارے علیؔ اکبرجلد آیئے یاد آپ کو فرماتے ہیں سرورحاضر ہوا جوڑے ہوئے ہاتھوں کو ہو صفدرارشاد کیا شہ نے علم بھائی کو دے کررکھیے اسے کاندھے پہ، یہ ہے آپ کا عہدہلو بھائی مبارک ہو تمہیں باپ کا عہدہ

۸۵

بوسہ دیا عباسِؔ دلاور نے علم پرتسلیم کی اور رکھ دیا سر شہ کے قدم پرکی عرض کہ قربان اس الطاف و کرم پرسو سر ہوں تو صدقے میں شہنشاہِ امم پرادنیٰ جو ابھی تھا اسے اعلیٰ کیا مولاقطرے کو ترے فیض نے دریا کیا مولا

۸۶

اس چترِ فلک قدر کا سایہ مرے سر پراس دھوپ میں ہوگا، پہ پھریرا مرے سرپریہ ابر مِرے سر پہ، یہ طوبیٰ مرے سر پرقائم رہیں لاکھوں برس آقا مرے سر پرسلطانِ دو عالم کی غلامی کے صلے ہیںسب اوج یہ نعلین اٹھانے سے ملے ہیں

۸۷

حضرت نے کہا رو کے یہ کیا کہتے ہو پیارےحاضر ہے اگر جان بھی کام آئے تمہارےحصہ یہ تمہارا تھا سو پہونچا تمہیں بارےمالک ہو تمہیں، ہم تو ہیں اب گور کنارےتھا دل میں جو کچھ وہ بخدا ہو نہیں سکتابھائی ترا حق مجھ سے ادا ہو نہیں سکتا

۸۸

یہ کہہ کے بڑھے سرورِ دیں جانبِ توسنہتیار لگائے ہوئے، پہنے ہوئے جوشناسوار ہوئے آپ، جو گردان کے دامناللہ رے ضیا، خانۂ زیں ہو گیا روشنوہ پاؤں رکابوں کے لئے باعثِ ضو تھےخورشید کے قدموں کے تلے دو مہِ نو تھے

۸۹

رانوں کے اشارے سے لگا کوندنے، شبدیزاسوار کے دل کا تھا اشارہ اسے مہمیزگرما کے جو شبیرؔ نے تازی کو کیا تیزاعدا پہ چلا غول سواروں کا، جلو ریزایک ایک جوانِ عربی، رشکِ ملک تھااللہ کے لشکر کا علم، سر بہ فلک تھا

۹۰

کیا فیضِ سواری تھا کہ زر ریز تھی سب راہطالع تھا ادھر مہر، ادھر تھا علم شاہمابین دو خورشید تھی، فوجِ شہِ ذی جاہپنجے پہ تجلی تھی، کہ اللہ ہی اللہبالا تھی چمک، مہرِ منور کی چمک پرضو اس کی زمیں پر تھی، ضیا اس کی فلک پر

۹۱

ایک ایک جواں، زیورِ جنگی کو سنوارےنیزوں کی چمک اور وہ سمندر کے طرارےجعفرؔ کے جگر بند، ید اللہ کے پیارےرستم سے ہر اک جنگ کرے شیر کو مارےسیاف ہو مرحبؔ سا، تو شمشیر سے ماریںارجنؔ سے کماندار کو، اک تیر سے ماریں

۹۲

کم سن کئی لڑکوں کا جدا غول تھا سب سےسوئے بھی نہ تھے، ولولۂ جنگ میں ، شب سےرو کے ہوئے باگوں کو، شہِ دیں کے ادب سےاعدا کی طرف دیکھتے تھے، چشمِ غضب سےہتھیار جو باندھے تھے تو کیا تن پہ کُھلے تھےسب نیمچے تولے ہوئے مرنے پہ تُلے تھے

۹۳

وہ چاند سا منہ، اور وہ گورے بدن، ان کےشرمندہ ہو غنچے بھی، وہ نازک دہن ان کےیوسف کی طرح عطر فشاں پیرہن ان کےمرکر وہی کپڑے ہوئے آخر کفن ان کےکیا حسنِ عقیدت تھا عجب دل کے جواں تھےآقا پہ فِدا ہونے کو سب ایک زباں تھے

۹۴

عمریں تو کم و بیش، یہ سب گیسوؤں والےاِک غول میں تھے چاند کئی اور کئی ہالےذی مرتبہ سیدانیوں کو گود کے پالےغنچہ تھا وہ سب، اکبرِؔ گل رو کے حوالےان تازہ نہالوں میں نمودار یہی تھےاس گلشنِ یک رنگ کے مختار یہی تھے

۹۵

مقتل کو جو پر نور کیا، عسکرِ دیں نےدیکھا طرفِ چرخ، حقارت سے زمیں نےاونچا نہ کیا سر فلکِ ماہِ جبیں نےکی فرش پہ حسرت سے نظر عرشِ بریں نےاٹھ اٹھ کے چمک اپنی دکھانے لگے ذرےخورشید کے پہلو کو دبانے لگے ذرے

۹۶

کھولا جو پھریرے کو علمدار جری نےلوٹے گلِ فردوس، نسیم سحری نےتاروں کو اتارا، فلکِ نیلوفری نےپرچم جو کھلا کھول دیے بال پری نےعیسی نے پکارا کہ نثار اس کے چشم کےخورشید نے منہ رکھ دیا پنجے پہ علم کے

۹۷

ترتیبِ صفِ فوج کا جس دم ہوا اعلامباندھی علیؔ اکبر نے صفِ لشکرِ اسلامظاہر جو ہوئی شانِ جوانانِ گل اندامکوفے کے نشاں جھک گئے، کانپی سپہِ شاماللہ رے شوکت شرفا و نجبا کیاسلام کا لشکر تھا کہ قدرت بھی خدا کی

۹۸

ناگاہ بجا طبل، بڑھا لشکرِ سفاکتا چرخ گیا، غلغلۂ کوسِ شغب ناکفریاد سے قرنا کی ہلا گنبد افلاکتھرا گیا آوازِ دہل سے کرۂ خاکنوبت تھی زبس قتلِ امامِ مدنی کیصاف آتی تھی تاشوں سے صدا سینہ زنی کی

۹۹

واں شور تھا باجوں کا ادھر نعرۂ تکبیرایک ایک جری جھومتا تھا تول کے شمشیرنگاہ سوئے فوجِ خدا آنے لگے تیرعباسؔ علمبدار نے دیکھا رخِ شبیرکی عرض کہ لڑنے کو شریر آتے ہیں مولاکیا حکم ہے اب پیاسوں پہ تیر آتے ہیں مولا

۱۰۰

شہ نے کہا شرم آتی ہے کیا حکم میں دوں آہہفتادِ دو تن یاں ہیں، ادھر سیکڑوں گمراہغازی نے یہ کی عرض کہ اے گل کے شہنشاہیہ شیر نیستانِ علیؔ ہیں، تو وہ روبارہلاکھوں ہیں تو کیا ڈرہے شجاعانِ عرب کواقبال سے آقا کے بھگا دیتے ہیں سب کو

۱۰۱

فرمایا کہ فاقے سے ہے، سارا مرا لشکرپانی نہیں ملتا کہ لبِ خشک کریں تربہتر ہے اگر پہلے کٹے تن سے مرا سرغازی نے کہا شیرِ گرسنہ ہیں، یہ صفدرحملوں سے الٹ دیں گے پرے فوج عدو کےبھوکے ہیں یہ زخموں کے، پیاسے ہیں لہو کے

۱۰۲

حضرت نے کہا خیر! لڑو فوجِ ستم سےمعلوم ہے سب آج جدا ہوویں گے ہم سےدنیا سے نہ مطلب ہے، نہ کچھ جاہ و حشم سےکٹ جائے گا اپنا بھی گلا، تیعِ دو دم سےمقبول ہیں وہ، جو مری امداد کریں گےاس جنگ کو بھی لوگ، بہت یاد کریں گے

۱۰۳

جس دم یہ سنی، قبلۂ کونین کی گفتارجانباز بڑھے، فوج سے چلنے لگی تلوارتھے پیاسوں کے حملے غضبِ حضرتِ قہارچوٹی کے جواں بھاگ گئے پھینک کے تلوارکون آنکھ ملا سکتا تھا، شیروں سے عرب کےجب کرتے تھے نعرے قدم اٹھ جاتے تھے سب کے

۱۰۴

لڑتا تھا غضب ایک کے بعد ایک وفاداردن چڑھتا تھا یاں، گرم تھا واں موت کا بازارسر بیچتے تھے، جنسِ شہادت کے طلبگاربڑھ بڑھ کے خریدار پہ گرتا تھا خریدارلیں پہلے، ہم ایک ایک کی جاں اس کی بڑی تھیعقبیٰ کا جو سودا تھا تو قیمت بھی کڑی تھی

۱۰۵

آیا جو عزیزوں کے لئے موت کا پیغامفرزندوں نے جعفرؔ کے بڑے رن میں کئے کاماولاد عقیل آ چکی شبیرؔ کے جب کاملڑنے کو گئے مسلمِ بیکس کے گل اندامتھا حشر بپا ندیاں بہتی تھیں لہو کیبچوں نے الٹ دی تھیں صفیں فوجِ عدو کی

۱۰۶

لشکر میں تلاطم تھا غضب چلتی تھی تلواربیتاب تھے یاں، زینبِ ناشاد کے دلدارمنہ دیکھ کے حضرت کا یہی کہتے تھے ہر بارہم جائیں گے بعد ان کے سوئے لشکرِ کفارجی جائیں جو مولا ہمیں مرنے کی رضا دیںایسا نہ ہو قاسمؔ کو حضور اذنِ وِغا دیں

۱۰۷

کچھ ان سے کہا چاہتے تھے سرورِ ذی شانجو غل ہوا مارے گئے مسلمؔ کے دل و جانلاشے بھی ادھر آ چکے، جب خون میں غلطاںپھر ہاتھوں کو جوڑا کہ ملے رخصت میداںشہ نے کہا یہ داغ تو دشوار ہے ہم پران دونوں نے سر رکھ دیے ماموں کے قدم پر

۱۰۸

حضرت نے کہا ماں سے بھی ہو آئے ہو رخصتکیا کہتے ہو لٹوا دوں میں ہمشیر کی دولتمایہ ہو تمہیں اس کا، تمہیں اس کی بضاعتچھوٹے نے یہ حضرت سے کہا تھام کے رقتجھوٹے نہیں ہم، آپ ابھی پوچھ لیں سب سےاماں تو رضا دے چکی ہیں، مرنے کی شب سے

۱۰۹

بچوں نے جو کی جوڑ کے ہاتھوں کو یہ تقریران دونوں کا منہ دیکھ کے رونے لگے شبیرؔفرمایا چھڑاتا ہے، تمہیں بھی فلکِ پیراچھا میں رضا مند ہوں، جو مرضئِ ہمشیروہ سیدۂ پاک نواسی ہے نبی کیفیاض کی ہمشیر ہے، بیٹی ہے سخی کی

۱۱۰

یہ سن کے جھکے آخری تسلیم کو ذی جاہخورشید کے آگے مہ نو بن گئے دو ماہکی سوئے فلک دیکھ کے شبیرؔ نے اک جاہدو شیر چلے گھوڑوں پر چڑھ کر سوئے جنگاہماں ڈیوڑھی سے چلائی کہ رخصت ہو مبارکسرکارِ شہنشاہ سے، خلعت ہو مبارک

۱۱۱

سلطانِ دو عالم نے مخلع کیا واریتم جاتے ہو یا جاتی ہے دولہا کی سواریپروان چڑھے، ختم ہوئیں شادیاں ساریلو دور سے لیتی ہوں بلائیں، تمہاریصدقے گئی نیزوں کو ہلاتے ہوئے جاؤشکلیں مجھے پھر پھر کے دکھاتے ہوئے جاؤ

۱۱۲

تسلیم کو گھوڑوں سے جھکے، دونوں وہ گل رودل ماں کا یہ امڈا کہ ٹپکنے لگے آنسوباگیں جو اٹھائیں تو فرس بن گئے، آہوپھر دیکھنے پائی نہ انہیں زینبِ خوش خومیداں کی طرف یاس سے ماں رہ گئی تک کرپنہاں ہوئے بدلی میں ستارے سے چمک کر

۱۱۳

میداں میں عجب شان سے وہ شیرِ نر آئےگویا کہ بہم حیدرؔ و جعفرؔ نظر آئےغل پر گیا حضرت کی بہن کے پسر آئےافلاک سے بالائے زمیں دو قمر آئےیوسف سے فزوں حسن گرانمایہ ہے ان کایہ دھوپ بیاباں میں نہیں، سایہ ہے ان کا

۱۱۴

وہ چاند سے منہ، اور وہ گیسوئے معنبروہ بدر سے رخسار، زہے قدرتِ داورسب شان یداللہ کی، سب شوکتِ حیدرؔچتون وہی، غصہ وہی، سارے وہی تیوریہ دبدبہ کس صاحبِ شمشیر نے دیکھادیکھا جسے، معلوم ہوا شیر نے دیکھا

۱۱۵

تن تن کے جو شان اپنی دکھاتے تھے وہ ذی جاہچھاتی سے لگا لیتے تھے دونوں کو ید اللہشمشاد سے قامت، نہ دراز اور نہ کوتاہکھیلے ہوئے تیغوں میں فنِ جنگ سے آگاہناخن سے دلیروں کے سب اندازِ وِغا تھےبچے تھے مگر بچۂ ضرغامِ خدا تھے

۱۱۶

تھے حسن میں ان دونوں کے آئینہ رو ایکپیشانی و ابرو و سر و صدر و گلو ایکشان ایک، شکوہ ایک، جو رنگ ایک، تو بو ایکدل ایک، جگر ایک، جسد ایک، لہو ایکاور ان سا کوئی غرب سے تا شرق نہیں ہےدو ٹکڑے ہیں اک سیب کے، کچھ فرق نہیں ہے

۱۱۷

پڑھنے لگے اشعارِ رجز جب وہ دلاوراللہ ری فصاحت فصحا ہو گئے ششدرہر بیت تھی دشمن کے لئے تیغِ دو پیکرہر مصرع برجستہ میں تھی تیزئِ خنجردے کون جواب ان کا کہ دم بند تھا سب کاواں قافیہ تھا تنگ شجاعانِ عرب کا

۱۱۸

اظہارِ نسب میں جو محمدؔ کا لیا نامسب پڑھنے لگے صلِ علیٰ صاحبِ اسلامآگے جو بڑھے نامِ علیؔ کے کے وہ گلفامدل ہِل گئے تھرانے لگا روم سے تا شامجعفرؔ کا جو کچھ ذکر کیا بعد علیؔ کےمجرے کو علم جھک گئے سب فوجِ شقی کے

۱۱۹

آغاز تھا ذکرِ شرفِ حضرتِ شبیرؔڈنکے پہ ادھر چوٹ لگی، چلنے لگے تیراس وقت بڑے بھائی نے کی چھوٹے سے تقریرتلوار علم کیجئے اب کس لئے تاخیرکہتے تو جدا ہو کے ستمگاروں پہ جائیںاسواروں میں ہم، آپ کمانداروں پہ جائیں

۱۲۰

فرمایا بڑے بھائی نے ہنس کر، نہیں بھائیتم جان ہو، دشوار ہے دم بھر کی جدائیہو جاتی ہے اِک آن میں، ہر صف کی صفائیکر دیتے ہیں سر، کون سی ایسی ہے لڑائیبازو ہوں قوی، ہاتھ سے گر ہاتھ نہ چھوٹےسر تن سے اتر جائے، مگر ساتھ نہ چھوٹے

۱۲۱

نانا کی طرح، فوج پہ حملے کریں، آؤتلواروں میں تن تن کے چلو، برچھیاں کھاؤان چھوٹے سے ہاتھوں کا ہمیں، زور دکھاؤہم سینہ سپر تم پہ ہوں، تم ہم کو بچاؤہم شیروں پہ رستم کا بھی منہ پڑ نہ سکے گاجب دو ہوئے اک دل تو کوئی لڑ نہ سکے گا

۱۲۲

چھوٹے نے کہا جوڑ کے ہاتھوں کو کہ، بہتربس کھینچ لئے نیمچے، دونوں نے برابردو بجلیاں کوندیں کہ لرزنے لگے لشکرنیزوں کے نیستاں میںِ در آئے وہ غضنفربرباد کیا رو میں سواروں کو دبا کےرہوار بھی اسوار تھے گھوڑوں پہ ہوا کے

۱۲۳

ان چھوٹی سی تلواروں کے تھے کاٹ نرالےتھیں کہنیاں پہونچوں سے جدا، ہاتھوں سے بھالےمسل اپنی جمائے تھے جو بے مثل رسالےتھے جائزہ ان سب کا یہی دیکھنے والےناز اپنے ہنر پر تھا شجاعان عرب کونیزوں کو قلم کر کے ندارد کیا سب کو

۱۲۴

موت آئی اُدھر، نیمچے دونوں جدھر آئےجب ہاتھ بڑھا، پاؤں پہ کٹ کٹ کے سر آئےگر سینے تک آئے تو، کبھی تا کمر آئےخالی نہ پھرے، جس پہ گئے، خوں میں بھر آئےہر نیمچہ، بجلی تھا ستمگاروں کے حق میںڈوبے ہوئے تھے دو مہِ نو، خوں کی شفق میں

۱۲۵

اٹھتی تھی نہ ڈر سے کسی خوں خوار کی گردنسر خود کا جھک جاتا تھا، تلوار کی گردندو چار کے منہ کٹ گئے، دو چار کی گردناسوار کا سر اڑ گیا، رہوار کی گردندو نیمچے بجلی سے گزرتے تھے کمر سےآدھے ہوئے جاتے تھے لعیں جان کے ڈر سے

۱۲۶

دو چھوٹی سی تیغوں سے قیامت نظر آئیمعصوموں کے ہاتھوں سے کرامت نظر آئیسر کٹنے کی، اعدا کے علامت نظر آئیلو ہے کی سپر بھی نہ سلامت نظر آئیبے وجہ نہ پھر جاتے تھے منہ اہلِ جفا کےدریا کے تھپیڑے تھے، طمانچے تھے قضا کے

۱۲۷

گردن سے بڑھے کاٹ کے پیکر نکل آئےجوشن کو دکھاتے ہوئے جوہر نکل آئےچار آئینہ میں تیر کے باہر نکل آئےصابون سے دو تار برابر نکل آئےمحراب کے نیچے کسے جھکتے نہیں دیکھامچھلی کو بندھے پانی میں رکتے نہیں دیکھا

۱۲۸

ہر غول میں غلطاں و تپاں تھے سرو پیکردستانے کہیں تھے، کہیں ڈھالیں، کہیں مغفرجب نیمچے ان دونوں کے اٹھتے تھے برابرمنہ خوف سے ڈھالوں میں چھپاتے تھے ستم گرروکے انہیں، طاقت یہ نہ تھی پیر و جواں کیصورت نظر آنے لگی تیغِ دو زباں کی

۱۲۹

غارت تھی وہ صف جس سے وِغا کرکے پھرے وہدو ہاتھ میں سو سو کو فنا کرکے پھرے وہسرداروں کے سر تن سے جدا کرکے پھرے وہہر غول میں اک حشر بپا کرکے پھرے وہغل تھا کہ پرے ٹوٹے ہوئے جم نہیں سکتےسر کٹنے کی دہشت سے قدم تھم نہیں سکتے

۱۳۰

گھوڑے تھے چھلاوا، کبھی یاں تھے کبھی واں تھےپتلی میں تو پھرتے تھے، پر آنکھوں سے نہاں تھےیاں تھے جو سبک رو تو ادھر گرم عناں تھےبجلی تھے کسی جا تو کہیں آبِ رواں تھےہو سکتی تھی بجلی سے یہ سرعت نہ ہرن سےجھونکے تھے ہوا کے کہ نکل جاتے تھے سَن سے

۱۳۱

بے آب تھے دو دن سے یہ جاندار تھے گھوڑےہر مرتبہ اڑ جانے پہ تیار تھے گھوڑےاس پار کبھی تھے، کبھی اس پار تھے گھوڑےنقطہ تھے وہ سب فوج کی پرکار تھے گھوڑےدس بیس جو مر جاتے تھے ٹاپوں سے کچل کربڑھ سکتا نہ تھا اِک بھی احاطہ سے اجل کے

۱۳۲

تانے ہوئے سینوں کو جدھر جاتے تھے دونوںتلواروں کی موجوں سے گزر جاتے تھے، دونوںہر غول میں بے خوف و خطر جاتے تھے، دونوںسب ہوتے تھے پسپا تو ٹھہر جاتے تھے، دونوںالٹی ہوئی صف دیکھ کے ہنس دیتا تھا بھائیبھائی کی طرف دیکھ کے ہنس دیتا تھا بھائی

۱۳۳

دم لے کے جو گھوڑوں کو اڑاتے تھے وہ جراراعدا کے رسالوں کو بھگاتے تھے وہ جرارشیروں کی طرح فوج پہ جاتے تھے وہ جراردو کرتے تھے یکتا، جسے پاتے تھے وہ جرارشیروں نے جو مارا بھی تو رو داروں کو ماراجب آنکھ ملی چن کے نموداروں کو مارا

۱۳۴

جمعیتِ لشکر کو پریشاں کیا، دم میںجو فوج کی جاں تھے، انہیں بے جاں کیا دم میںتلواروں سے جنگل کو، گلستاں کیا دم میںسر کاٹ کے خونخواروں کو غلطاں کیا دم میںبے دست تھے علموں کو، جو بے دین لیے تھےبچوں نے جوانوں کے نشاں چھین لئے تھے

۱۳۵

دو لاکھ کو دونوں نے کیا تھا تہ و بالاتیغ ایک کی چلتی تھی، تو اِک بھائی کا بھالااِک بڑھ گیا گر ایک نے گھوڑے کو نکالادم اس نے لیا، اس نے لڑائی کو سنبھالایک جا فرسِ تیز قدم ہو گئے دونوںجب بھیڑ بڑھی کچھ تو بہم ہو گئے دونوں

۱۳۶

وہ چھیڑ کے تازی کو سواروں میں در آیادم بھر میں پیادوں کو پامال کر آیاجب شیر سا پہونچا وہ ادھر، یہ ادھر آیاجاں آ گئی بھائی کو جو بھائی نظر آیابچ بچ کے نکلتے تھے جو نیزوں کے تلے سےاِک بھائی لپٹ جاتا تھا بھائی کے گلے سے

۱۳۷

کچھ بھائی سے بڑھ کر جو وِغا کرتا تھا بھائیبچ جانے کی بھائی کے دعا کرتا تھا بھائیحق بھائی کی الفت کا ادا کرتا تھا بھائیہر وار پہ بھائی کی ثنا کرتا تھا بھائیتم سا نہیں صفدر کوئی واللہ برادرکیا خوب لڑے سلمک اللہ برادر

۱۳۸

کہتا تھا بڑے بھائی سے چھوٹا بصد آداببھائی میں بھگا دوں ابھی ان کو، جو ملے آباب پیاس کی گرمی سے کلیجے کو نہیں تابسینے میں مرا دل نہیں، آتش پہ ہے سیمابہم لوگ محق کیا نہیں اس آبِ رواں کےتالو میں خلش ہوتی ہے کانٹوں سے زباں کے

۱۳۹

کہتا تھا بڑا بھائی میں صدقے ترے گلفامہم خشک زبانوں کو، بھلا پانی سے کیا کاماب جلد اجل آئے تو کوثر کا پئیں جامغش ہم کو بھی آ جائے گا، پانی کا نہ لو نامآنکھیں تو ستمگاروں کی تیغوں سے لڑی ہیںچپکے رہو اماں درِ خیمہ پہ کھڑی ہیں

۱۴۰

اس نہر کا لینا تو کچھ ایسا نہیں مشکلروکیں ہمیں کیا تاب لعینوں کی ہے، کیا دلپل باندھ لیں لاشوں کے ابھی ہم سرِ ساحلبتلایئے، پھر نہر کے لے لینے سے حاصلدیکھو نہ ادھر پیاس سے گو لاکھ تعب ہےاماں ہمیں گر دودھ نہ بخشیں تو غضب ہے

۱۴۱

اشک آنکھوں میں بھر کر، کہا چھوٹے نے بہت خوبہر دم ہے رضامندئ مادر ہمیں مطلوبایسے تو نہیں ہم کہ بزرگوں سے ہوں محجوبمنظور یہ تھا فخر کا، نکلے کوئی اسلوبدریا کو بھی دیکھیں گے نہ اب آنکھ اٹھا کےپیتے بھی تو پہلے شہِ والا کو پلا کے

۱۴۲

جعفرؔ کے جو پوتے ہیں، تو حیدرؔ کے نواسےکچھ ہم علیؔ اکبر سے زیادہ نہیں پیاسےیہ کہتے ہی لڑنے لگے، پھر اہلِ جفا سےفریاد کہ بچوں پہ گری فوج قفا سےخوں سر کا بہا منہ پہ تو گھبرا گئے دونوںدو لاکھ کی تیغوں کے تلے آ گئے دونوں

۱۴۳

ڈوبے ہوئے تھے شام کے بادل میں وہ دو ماہپردے سے کھڑی تکتی تھی، زینبؔ سوئے جنگاہعباسؔ سے کہتے تھے تڑپ کر شہِ ذی جاہاب مجھ سے جدا ہوتے ہیں دو شیر مرے آہکیوں کر متحمل ہو دل اس رنج و محن کاگھر لٹتا ہے بھائی مری نادار بہن کا

۱۴۴

اس بی بی کے فاقوں کے ہیں پالے ہوئے یہ لالدولت ہے یہی، اور یہی حشمت و اقبالسات آٹھ برس کے ہیں ابھی کیا ہے سن و سالسب ہاتھ ملیں گے جو یہ گل ہو گئے پامالتازہ یہی دو پھول ہیں جعفرؔ کے چمن میںمر جائے گا باپ ان کی خبر سن کے وطن میں

۱۴۵

رو کر دمِ رخصت وہ یہی کہتے تھے ہر بارمیں شاہ کا خادم ہوں، یہ دونوں ہیں نمک خوارآگاہ صعوباتِ سفر سے نہیں زنہاراے دخترِ زہرا مرے بیٹوں سے خبردارمیں رکھ نہیں سکتا ہوں کہ ماموں پہ فدا ہیںاب تو یہی دونوں مرے پیری کے عصا ہیں

۱۴۶

شوہر کا تڑپنا اسے کچھ بھی نہ رہا یادہے ہے مری الفت میں لٹی زینبؔ ناشادیوں بھائی پہ صدقے کوئی کرتا نہیں اولادہم دیکھتے ہیں اور بہن ہوتی ہے بربادروئے گی وہ بیٹوں کو تو سمجھائیں گے کیوں کرمنہ زینبِؔ دلگیر کو دکھلائیں گے کیوں کر

۱۴۷

عباسؔ نے کی عرض، کلیجہ ہے دو پاراان کو تو کسی کی نہیں، امداد گوارازخمی ہوئے، نہ مجھ کو نہ اکبرؔ کو پکاراجائے یہ غلام آپ جو فرمائیں اِشاراحضرت کی قسم دے کے میں سمجھاؤں گا ان کومچلیں گے تو گودی میں اٹھا لاؤں گا ان کو

۱۴۸

حضرت نے کہا صاحبِ غیرت ہیں، وہ دونوںلختِ جگر شاہِ ولایت ہیں وہ دونوںضرغامِ نیستانِ شجاعت ہیں، وہ دونوںواللہ بڑے صاحبِ ہمت ہیں وہ ددنوںدو لاکھ تو کیا ہیں جو کروروں میں گھریں گےبے جان دیے، وہ نہ پھرے ہیں نہ پھریں گے

۱۴۹

بڑھنے لگے میداں کی طرف قاسمِ ذی جاہاکبرؔ نے یہ کی عرض کہ میں جاتا ہوں یا شاہہے دونوں کی فرقت کا، مجھے صدمۂ جانکاہلاکھوں میں ہیں تنہا پھوپھی اماں کے پسر، آہریتی پہ کہیں گر نہ پڑیں برچھیاں کھا کرمیں ساتھ انہیں لے آتا ہوں اعدا کو بھگا کر

۱۵۰

گھبرا کے درِ خیمہ سے زینبؔ یہ پکاریسر ننگے میں نکلوں گی، جو تم جاؤ گے واریاولاد مجھے تم سے زیادہ نہیں پیاریبتلاؤ کہ میں ان کی ہوں عاشق کہ تمہاریمیداں کی طرف قاسمِؔ بے پر بھی نہ جائیںتلواروں میں عباسِؔ دلاور بھی نہ جائیں

۸۰ / ۹۰