جب زلف کو کھولے ہوئے لیلائے شب آئی

کچھ ان سے کہا چاہتے تھے سرورِ ذی شانجو غل ہوا مارے گئے مسلمؔ کے دل و جانلاشے بھی ادھر آ چکے، جب خون میں غلطاںپھر ہاتھوں کو جوڑا کہ ملے رخصت میداںشہ نے کہا یہ داغ تو دشوار ہے ہم پران دونوں نے سر رکھ دیے ماموں کے قدم پر

About this couplet

This is couplet 107 of 150 in “⁨جب زلف کو کھولے ہوئے لیلائے شب آئی⁩” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Babar Ali Anis's Urdu book Kalam-e-Anis (⁨کلامِ انیس⁩).

Read it in the poem

۱۰۷ / ۱۵۰