جب زلف کو کھولے ہوئے لیلائے شب آئی
یہ سن کے جھکے آخری تسلیم کو ذی جاہخورشید کے آگے مہ نو بن گئے دو ماہکی سوئے فلک دیکھ کے شبیرؔ نے اک جاہدو شیر چلے گھوڑوں پر چڑھ کر سوئے جنگاہماں ڈیوڑھی سے چلائی کہ رخصت ہو مبارکسرکارِ شہنشاہ سے، خلعت ہو مبارک
About this couplet
This is couplet 110 of 150 in “جب زلف کو کھولے ہوئے لیلائے شب آئی” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Babar Ali Anis's Urdu book Kalam-e-Anis (کلامِ انیس).
Read it in the poem۱۱۰ / ۱۵۰