جب زلف کو کھولے ہوئے لیلائے شب آئی
تسلیم کو گھوڑوں سے جھکے، دونوں وہ گل رودل ماں کا یہ امڈا کہ ٹپکنے لگے آنسوباگیں جو اٹھائیں تو فرس بن گئے، آہوپھر دیکھنے پائی نہ انہیں زینبِ خوش خومیداں کی طرف یاس سے ماں رہ گئی تک کرپنہاں ہوئے بدلی میں ستارے سے چمک کر
About this couplet
This is couplet 112 of 150 in “جب زلف کو کھولے ہوئے لیلائے شب آئی” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Babar Ali Anis's Urdu book Kalam-e-Anis (کلامِ انیس).
Read it in the poem۱۱۲ / ۱۵۰