جب زلف کو کھولے ہوئے لیلائے شب آئی

سر گرم تھے مر جانے پہ، سب شاہ کے انصارعباس سے یہ کہتا تھا، وہ کل کا مدد گارتم رہیو ذرا خیمۂ ناموس سے ہشیارڈر ہے نہ کرے بے ادبی لشکر کفاربے دینوں کو راحت مری منظور نہیں ہےشب خوں جو ادھر سے ہو، تو کچھ دور نہیں ہے

About this couplet

This is couplet 12 of 150 in “⁨جب زلف کو کھولے ہوئے لیلائے شب آئی⁩” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Babar Ali Anis's Urdu book Kalam-e-Anis (⁨کلامِ انیس⁩).

Read it in the poem

۱۲ / ۱۵۰