جب زلف کو کھولے ہوئے لیلائے شب آئی
جمعیتِ لشکر کو پریشاں کیا، دم میںجو فوج کی جاں تھے، انہیں بے جاں کیا دم میںتلواروں سے جنگل کو، گلستاں کیا دم میںسر کاٹ کے خونخواروں کو غلطاں کیا دم میںبے دست تھے علموں کو، جو بے دین لیے تھےبچوں نے جوانوں کے نشاں چھین لئے تھے
About this couplet
This is couplet 134 of 150 in “جب زلف کو کھولے ہوئے لیلائے شب آئی” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Babar Ali Anis's Urdu book Kalam-e-Anis (کلامِ انیس).
Read it in the poem۱۳۴ / ۱۵۰