جب زلف کو کھولے ہوئے لیلائے شب آئی
وہ چھیڑ کے تازی کو سواروں میں در آیادم بھر میں پیادوں کو پامال کر آیاجب شیر سا پہونچا وہ ادھر، یہ ادھر آیاجاں آ گئی بھائی کو جو بھائی نظر آیابچ بچ کے نکلتے تھے جو نیزوں کے تلے سےاِک بھائی لپٹ جاتا تھا بھائی کے گلے سے
About this couplet
This is couplet 136 of 150 in “جب زلف کو کھولے ہوئے لیلائے شب آئی” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Babar Ali Anis's Urdu book Kalam-e-Anis (کلامِ انیس).
Read it in the poem۱۳۶ / ۱۵۰