جب زلف کو کھولے ہوئے لیلائے شب آئی
کہتا تھا بڑے بھائی سے چھوٹا بصد آداببھائی میں بھگا دوں ابھی ان کو، جو ملے آباب پیاس کی گرمی سے کلیجے کو نہیں تابسینے میں مرا دل نہیں، آتش پہ ہے سیمابہم لوگ محق کیا نہیں اس آبِ رواں کےتالو میں خلش ہوتی ہے کانٹوں سے زباں کے
About this couplet
This is couplet 138 of 150 in “جب زلف کو کھولے ہوئے لیلائے شب آئی” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Babar Ali Anis's Urdu book Kalam-e-Anis (کلامِ انیس).
Read it in the poem۱۳۸ / ۱۵۰