جب زلف کو کھولے ہوئے لیلائے شب آئی
ڈوبے ہوئے تھے شام کے بادل میں وہ دو ماہپردے سے کھڑی تکتی تھی، زینبؔ سوئے جنگاہعباسؔ سے کہتے تھے تڑپ کر شہِ ذی جاہاب مجھ سے جدا ہوتے ہیں دو شیر مرے آہکیوں کر متحمل ہو دل اس رنج و محن کاگھر لٹتا ہے بھائی مری نادار بہن کا
About this couplet
This is couplet 143 of 150 in “جب زلف کو کھولے ہوئے لیلائے شب آئی” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Babar Ali Anis's Urdu book Kalam-e-Anis (کلامِ انیس).
Read it in the poem۱۴۳ / ۱۵۰