جب زلف کو کھولے ہوئے لیلائے شب آئی
بڑھنے لگے میداں کی طرف قاسمِ ذی جاہاکبرؔ نے یہ کی عرض کہ میں جاتا ہوں یا شاہہے دونوں کی فرقت کا، مجھے صدمۂ جانکاہلاکھوں میں ہیں تنہا پھوپھی اماں کے پسر، آہریتی پہ کہیں گر نہ پڑیں برچھیاں کھا کرمیں ساتھ انہیں لے آتا ہوں اعدا کو بھگا کر
About this couplet
This is couplet 149 of 150 in “جب زلف کو کھولے ہوئے لیلائے شب آئی” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Babar Ali Anis's Urdu book Kalam-e-Anis (کلامِ انیس).
Read it in the poem۱۴۹ / ۱۵۰