جب زلف کو کھولے ہوئے لیلائے شب آئی
یوں تو کئی راتوں سے وہ ہیں مضطر و بیتابراحت کی نہ صورت ہے نہ آرام کا اسبابغش میں جو ذرا بند ہوئے، دیدۂ پر آبروتی ہوئی چونکی ہیں، ابھی دیکھ کے کچھ خوابنعلین کہیں، چادر پر نور کہیں ہےاس وقت سے بسمل کی طرح چین نہیں ہے
About this couplet
This is couplet 23 of 150 in “جب زلف کو کھولے ہوئے لیلائے شب آئی” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Babar Ali Anis's Urdu book Kalam-e-Anis (کلامِ انیس).
Read it in the poem۲۳ / ۱۵۰