جب زلف کو کھولے ہوئے لیلائے شب آئی
صدمے سے ہوا رنگ رخ ماہ کا کافوراختر بھی بنے مردمک دیدۂ بے نورغم چھا گیا، راحت دل عالم سے ہوئی دورتصویر الم بن گئی جنت میں ہر اک حورکہتے تھے ملک رات نہ ہووے گی اب ایسیتاروں نے بھی دیکھی نہ تھی تاریک شب ایسی
About this couplet
This is couplet 3 of 150 in “جب زلف کو کھولے ہوئے لیلائے شب آئی” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Babar Ali Anis's Urdu book Kalam-e-Anis (کلامِ انیس).
Read it in the poem۳ / ۱۵۰