جب زلف کو کھولے ہوئے لیلائے شب آئی

آتا ہے سکینہؔ کی یتیمی کا، مجھے دھیانہر وقت بھرا گھر نظر آ جاتا ہے، ویرانسمجھانے سے کچھ دل جو بہلتا ہے، میں قربانپھر جاتا ہے آنکھوں کے تلے موت کا سامانبازو مرے کسنے کو رسن لاتا ہے کوئیسر پر سے ردا کھینچے لئے جاتا ہے کوئی

About this couplet

This is couplet 33 of 150 in “⁨جب زلف کو کھولے ہوئے لیلائے شب آئی⁩” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Babar Ali Anis's Urdu book Kalam-e-Anis (⁨کلامِ انیس⁩).

Read it in the poem

۳۳ / ۱۵۰