جب زلف کو کھولے ہوئے لیلائے شب آئی

یہ ذکر ابھی تھا کہ سکینہؔ نے پکاراسونا تو گیا آپ کے ہمراہ ہمارامیں جاگتی ہوں اور جہاں سوتا ہے ساراگردوں پہ چمکنے نہ لگے صبح کا تارانیند آئی ہے بیٹی کو سلا جایئے بابابس ہو چکیں باتیں اب ادھر آیئے بابا

About this couplet

This is couplet 35 of 150 in “⁨جب زلف کو کھولے ہوئے لیلائے شب آئی⁩” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Babar Ali Anis's Urdu book Kalam-e-Anis (⁨کلامِ انیس⁩).

Read it in the poem

۳۵ / ۱۵۰