جب زلف کو کھولے ہوئے لیلائے شب آئی
رستہ وہ اجل کا ہے کہ ہوتا ہی نہیں بندکوچ آج پدر کا ہے تو کل جائے گا فرزندہوتا ہے قلق فرقت اولاد میں وہ چندکیا زور ہے بندے کا، جو مرضیٔ خداوندجو آئے ہیں دنیا میں وہ سب کوچ کریں گےاس زیست کا انجام یہی ہے کہ مریں گے
About this couplet
This is couplet 39 of 150 in “جب زلف کو کھولے ہوئے لیلائے شب آئی” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Babar Ali Anis's Urdu book Kalam-e-Anis (کلامِ انیس).
Read it in the poem۳۹ / ۱۵۰