جب زلف کو کھولے ہوئے لیلائے شب آئی

خیمہ تھا فلک، آپ قمر، دوست ستارےتارے بھی وہ تاروں کو فلک جن پہ اتارےخم ہو گیا تھا، پیر فلک شرم کے مارےکہتی تھی زمیں، اوج ہے طالع کو ہمارےخورشید نہیں روشنیٔ نیر دیں ہےخود عرش کو دھوکا تھا، یہ میں ہوں کہ زمیں ہے

About this couplet

This is couplet 44 of 150 in “⁨جب زلف کو کھولے ہوئے لیلائے شب آئی⁩” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Babar Ali Anis's Urdu book Kalam-e-Anis (⁨کلامِ انیس⁩).

Read it in the poem

۴۴ / ۱۵۰