جب زلف کو کھولے ہوئے لیلائے شب آئی
دو روز سے بھائی پہ مرے ظلم و ستم ہےتم فکر علم میں ہو مجھے سخت الم ہےچھوٹے سے ہیں قد، سِن بھی تمہارا ابھی کم ہےکھیل اس کو نہ سمجھو یہ محمدؔ کا علم ہےہرگز نہ ابھی کچھ شہِ ذی جاہ سے کہناکہنا بھی تو رخصت کے لئے شاہ سے کہنا
About this couplet
This is couplet 68 of 150 in “جب زلف کو کھولے ہوئے لیلائے شب آئی” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Babar Ali Anis's Urdu book Kalam-e-Anis (کلامِ انیس).
Read it in the poem۶۸ / ۱۵۰