جب زلف کو کھولے ہوئے لیلائے شب آئی

زینبؔ نے عتابانہ جو کی ان سے یہ گفتاریوں کہنے لگے، جوڑ کے ہاتھوں کو وہ دلدارشاہوں سے غلاموں نے بھی کی ہے، کبھی تکرارمالک ہیں جسے چاہیں علم دیں، شہ ابراررخصت کے لئے تیغ و سپر باندھے ہوئے ہیںہم صبح سے مرنے پہ کمر باندھے ہوئے ہیں

About this couplet

This is couplet 70 of 150 in “⁨جب زلف کو کھولے ہوئے لیلائے شب آئی⁩” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Babar Ali Anis's Urdu book Kalam-e-Anis (⁨کلامِ انیس⁩).

Read it in the poem

۷۰ / ۱۵۰