جب زلف کو کھولے ہوئے لیلائے شب آئی
صدقے گئی سن لو کہ میں کہتی ہوں جتا کرتم پہلے فدا کیجیو سر شہ کے قدم پرمیدان میں زخمی ہوئے گر قاسمؔ و اکبرؔپھر تم مرے فرزند نہ میں دونوں کی مادرجب دل ہوا ناراض تو فرزند کہاں کےکس کام کا وہ لعل جو کام آئے نہ ماں کے
About this couplet
This is couplet 72 of 150 in “جب زلف کو کھولے ہوئے لیلائے شب آئی” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Babar Ali Anis's Urdu book Kalam-e-Anis (کلامِ انیس).
Read it in the poem۷۲ / ۱۵۰