جب زلف کو کھولے ہوئے لیلائے شب آئی

دیکھو کہے دیتی ہوں خبردار! خبردارجیتے جو رہے دودھ نہ بخشوں گی میں زنہارشیروں کے یہ ہیں کام کھنچے جس گھڑی تلواررکھ دیویں گلا بڑھ کے، تہِ خنجرِ خوں خوارتوڑی ہیں صفیں جنگ میں جب کھیت پڑے ہیںجنات کے لشکر سے علیؔ یوں ہی لڑے ہیں

About this couplet

This is couplet 75 of 150 in “⁨جب زلف کو کھولے ہوئے لیلائے شب آئی⁩” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Babar Ali Anis's Urdu book Kalam-e-Anis (⁨کلامِ انیس⁩).

Read it in the poem

۷۵ / ۱۵۰