جب زلف کو کھولے ہوئے لیلائے شب آئی

سب تکنے لگے صورتِ عباس فلک جاہنازاں ہوا خود اوج پہ اپنے علمِ شاہیعنی مرا عامل ہے نشانِ اسد اللہبالیدہ تھا پرچم، تو پھریرا تھا ہوا خواہجان آ گئی تھی سنتے ہی اس خوشخبری کوپنجہ بھی اشارے سے بلاتا تھا جری کو

About this couplet

This is couplet 83 of 150 in “⁨جب زلف کو کھولے ہوئے لیلائے شب آئی⁩” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Babar Ali Anis's Urdu book Kalam-e-Anis (⁨کلامِ انیس⁩).

Read it in the poem

۸۳ / ۱۵۰