جب زلف کو کھولے ہوئے لیلائے شب آئی

اس چترِ فلک قدر کا سایہ مرے سر پراس دھوپ میں ہوگا، پہ پھریرا مرے سرپریہ ابر مِرے سر پہ، یہ طوبیٰ مرے سر پرقائم رہیں لاکھوں برس آقا مرے سر پرسلطانِ دو عالم کی غلامی کے صلے ہیںسب اوج یہ نعلین اٹھانے سے ملے ہیں

About this couplet

This is couplet 86 of 150 in “⁨جب زلف کو کھولے ہوئے لیلائے شب آئی⁩” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Babar Ali Anis's Urdu book Kalam-e-Anis (⁨کلامِ انیس⁩).

Read it in the poem

۸۶ / ۱۵۰