جب زلف کو کھولے ہوئے لیلائے شب آئی
واں شور تھا باجوں کا ادھر نعرۂ تکبیرایک ایک جری جھومتا تھا تول کے شمشیرنگاہ سوئے فوجِ خدا آنے لگے تیرعباسؔ علمبدار نے دیکھا رخِ شبیرکی عرض کہ لڑنے کو شریر آتے ہیں مولاکیا حکم ہے اب پیاسوں پہ تیر آتے ہیں مولا
About this couplet
This is couplet 99 of 150 in “جب زلف کو کھولے ہوئے لیلائے شب آئی” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Babar Ali Anis's Urdu book Kalam-e-Anis (کلامِ انیس).
Read it in the poem۹۹ / ۱۵۰