جب رن میں سر بلند علی کا علم ہوا
آمد تھی تیغ کی کہ اجل کا پیام تھایہ صف اخیر تھی وہ رسالہ تمام تھابجلی سا ہر جگہ فرس تیز گام تھاششدر تھی موت چار طرف قتلِ عام تھااس غول پر کبھی تھی کبھی اس قطار پرپڑتا تھا ایک تیغ کا سایہ ہزار پر
About this couplet
This is couplet 106 of 156 in “جب رن میں سر بلند علی کا علم ہوا” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Babar Ali Anis's Urdu book Kalam-e-Anis (کلامِ انیس).
Read it in the poem۱۰۶ / ۱۵۶