کلامِ انیسمثنویات، مراثی و دیگر

جب رن میں سر بلند علی کا علم ہوا

۱

جب رن میں سر بلند علی کا علم ہوافوجِ خدا پہ سایۂ ابرِ کرم ہواچرخ زبر جدی پے تسلیم خم ہواپنجے پہ سات بار تصدق حشم ہوادیکھا نہ تھا کبھی جو علم اس نمود کادونوں طرف کی فوج میں غل تھا درود کا

۲

وہ شان اس قلم کی وہ عباس کا جلالنخلِ زمردی کے تلے تھا علی کا لالپرچم پہ جان دیتی تھیں پریوں کا تھا یہ حالغل تھا کہ دوشِ حور پہ بکھرے ہوئے ہیں بالہر لہر آبدار تھی کوثر کی موج سےطوبیٰ بھی دب گیا تھا پھریرے کی اوج سے

۳

تھا پنجتن کا نور جو پنجے میں جلوہ گراعمیٰ کی پتلیوں میں بھی تھا روشنی کا گھرذرے نثار کرتے تھے اٹھ اٹھ کے اپنا زرتکتے تھے فوق سے تو ملک تخت سے بشراللہ ری چمک علمِ بوتراب کیتارِ نظر بنی تھی کرن آفتاب کی

۴

قربان احتشام علمدار نام وررخ پر جلالت شہ مرداں تھی سر بسرچہرہ تو آفتاب سا اور شیر کی نظرقبضے میں تیغ بر میں زرہ دوش پر سپرچھایا تھا رعب لشکرِ ابنِ زیادؔ پرغل تھا چڑھے ہیں شیر الٰہی جہاد پر

۵

وہ اوج وہ جلال وہ اقبال وہ حشموہ نور وہ شکوہ وہ توقیر وہ کرمپنجے کی وہ چمک وہ سر افرازیِ علمگرتی تی برق فوجِ مخالف پہ دم بہ دمکیا رفعتِ نشانِ سعادت نشان تھیسائے میں جس نشان کے طوبیٰ کی شان تھی

۶

پنجہ اٹھا کے ہاتھ یہ کہتا تھا بار بارعالم میں پنجتن کی بزرگی ہے آشکاریہ شش جہت انہیں کے قدم سے ہے برقرارکیوں ہفتہ دوست ہوتےہو اے قوم نابکارآٹھوں بہشت ملتے ہیں مولا کے نام سےبیعت کرو حسین علیہ السلام سے

۷

غرفوں سے جھانک جھانک کے بولی ہر ایک حورصلِ علیٰ علم کی چمک ہے کہ برق طوریارب رہے نگاہ بد اس کی ضیا سے دورپنجہ ہے یہ کہ ایک جگہ پنجتن کا نورجلوے ہیں سب محمد و حیدر کی شان کےقربان اس جواں کے نثار اس نشان کے

۸

آگے کبھی نہ دیکھی تھی اس حسن کی سپاہدنیا بھی خوبیوں کا مرقع ہے واہ واہدیکھیں کسے کسے کہ ہے ایک ایک رشکِ ماہجاتی ہے جس کے رخ پہ تو پھرتی نہیں نگاہدیکھو انہیں دموں سے ہے رونق زمین کوچن کر حسین لائے ہیں کس کس حسین کو

۹

شہرہ بہت تھا حسن میں کنعاں کے ماہ کاقصہ سنا ہوا ہے زلیخا کی چاہ کایاں آفتاب کو نہیں یارا نگاہ کایوسف ہے ایک ایک جواں اس سپاہ کاسنتے تھے ہم کہ عالمِ ایجادِ زشت ہےایسے چمن کھلے ہیں کہ دنیا بہشت ہے

۱۰

ہم شکل مصطفیٰ کا ہے کیا حسن کیا جمالصبحِ جبیں بھی اور شبِ گیسو بھی بے مثالیہ لب یہ خط یہ چشم یہ ابرو یہ رخ یہ خالیاقوت و مشک و نرگس و نجم و مہ و ہلالاک گل پہ یاں ہزار طرح کی بہار ہےچہرہ نہ کہیے قدرتِ پروردگار ہے

۱۱

لخت دلِ حسن بھی ہے کس مرتبہ حسیںجس کے چراغ حسن سے روشن ہے سب زمیںیہ زلف مشک بیز یہ آئینہ جبیںسرمایۂ خطا و ختن کائنات چیںرخ کی بلائیں لیتی ہیں پریاں کھڑی ہوئیسہرے کی ہر لڑی سے ہیں آنکھیں لڑی ہوئی

۱۲

نامِ خدا میں عون و محمد بھی کیا شکیلاک مہرے بے نظیر ہے اک بدرِ بے عدیلافروختہ ہیں رخ یہ شجاعت کی ہے دلیلہمت بڑی ہے گو کہ ہیں عمریں ابھی قلیلمثلِ علی ہیں جنگ و جدل پر تلے ہوئےدونوں کے نیمچوں کے ہیں ڈورے کھلے ہوئے

۱۳

عباس نام ور بھی عجب سج کا ہے جواننازاں ہے جس کے دوشِ منور پہ خود نشانحمزہ کا رعب صولت جفرؔ علی کی شانہاشم کا دل حسین کا بازو ، حسن کی جانکیوں کر نہ عشق ہو شہ گردوں جناب کوحاصل ہیں سیکڑوں شرف اس آفتاب کو

۱۴

اس مہر کو تو دیکھو یہ ذرے ہیں جس کے سبسرتاج آسمان و زمیں نورِ عرش ربابرِ کرم خدیو عجم خسرو عربعالی ہمم امامِ امم شاہِ تشنہ لبجنباں زبانِ خشک ہے ذکر الٰہ میںگویا کھڑے ہیں ختم رسل رزمگاہ میں

۱۵

کیا فوج تھی حسین کی اس فوج کے نثارایک ایک آبروئے عرب فخرِ روزگارجرار و دیں پناہ نمودار نامدارلڑکوں میں سبزہ رنگ کوئی کوئی گل عذارفوجیں کوئی سماتی تھیں ان کی نگاہ میںوہ سب پلے تھے بیشہ شیر الہٰ میں

۱۶

ایک ایک ملک جرأت و ہمت کا بادشاہکیواں خدم سپہر حشم عرشِ بارگاہآنکھیں غزالِ رشک مگر شیر کی نگاہوہ رعب چتونوں میں کہ اللہ کی پناہدیکھا تو دل کو توڑ کے برچھی نکل گئیابرو ذرا جو ہل گئے تلوار چل گئی

۱۷

وہ اشتیاقِ جنگ میں لڑکوں کے ولولےبے تاب تھے کہ دیکھیے تلوار کب چلےچہرے وہ آفتاب سے وہ چاند سے گلےسب فاطمہ کی بیٹیوں کی گود کے پلےاک اک رسولِ حق کی لحد کا چراغ تھاجس پر علی نے کی تھی ریاضت وہ باغ تھا

۱۸

اکبر سے عرض کرتے تھے سینہ سپر کیےیہ نیمچے نہ لیویں گے دم بے لہو پییےگر آج مر گئے تو قیامت تلک جیےصدقے ہوں اس قدم پہ یہ سر ہیں اسی لیےآقا کے آگے لطف ہے تیغ آزمائی کاآج آپ دیکھیے گا تماشا لڑائی کا

۱۹

بچپن پہ خادمانِ او لوالعزم کے نہ جائیںجب چاہیں معرکے میں ہمیں آپ آزمائیںتن تن کے روکیں برچھیاں ہنس ہنس کے زخم کھائیںبجلی گر ےتو منہ پہ جھجک کر سپر نہ لائیںجھپکے پلک کسی سے تو آنکھیں نکالیےبڑھ کر ہٹیں جو پانوں تو سر کاٹ ڈالیے

۲۰

کہتے تھے مسکرا کے یہ زینب کے دونوں لالکھلتے ہیں خود دلیروں کے جوہر دمِ جدالہر وقت چاہیے مددِ شیر ذو الجلالنعرے ابھی کریں تو ہلے عرصۂ قتالاتری ہے تیغ جن کے لیے وہ دلیر ہیںہم سب کو جانتے ہیں کہ شیروں کے شیر ہیں

۲۱

یہ چہچہے جو کرتے تھے باہم وہ گلعذارشپیر دیکھتے تھے کنکھیوں سے بار بارپاس آ کے عرض کرتے تھے عباسِ نامدارسنتے ہیں آپ کہتے ہٰن جو کچھ یہ جاں نثارجرأت ٹپک رہی ہے ہر اک کے کلام سےیہ نیمچے رکیں گے بھلا فوجِ شام سے

۲۲

یہ سن یہ زور شور یہ عمریں یہ آن بانیہ بھولے بھولے منہ پہ جواں مرد یا ں یہ شانباتیں رجز سے کم نہیں اللہ رے خوش بیانچلتی ہے ذوالفقار علی کی طرح زبانکس دبدبے سے کاندھوں پہ نیزے سنبھالے ہیںگویا چلن لڑائی کا سب دیکھے بھالے ہیں

۲۳

زینب کے لاڈلوں کی طرف دیکھیے حضورمثلِ عرق ٹپکتا ہے پیشانیوں سے نوررخ پر جلال شیر خدا کا ہے سب ظہورپر تو گلوں کا ہے کہ چمکتی ہے برقِ طوردونوں میں صاف حیدر و جعفر کے طور ہیںاللہ کی پناہ یہ تیوری ہی اور ہیں

۲۴

یہ ذکر تھا کہ بجنے لگا طبل اس طرفمشکل کشائی کی فوج نے باندھی ادھر بھی صفتیروں نے رخ کیا سوئے ابنِ شہ نجفسینوں کو غازیوں نے ادھر کر دیا ہدفتھا بسکہ شوقِ جنگ ہر اک رشکِ ماہ کوجوش آ گیا وغا کا حسینی سپاہ کو

۲۵

غصے سے آفتاب ہوئے مہ وشوں کے رنگفوجوں پہ جا پڑیں یہ دلوں کی ہوئی امنگتن تن کے برچھیاں جو سنبھالیں برائے جنگبے چین ہو گئے فرسِ ابلق و سرنگپاسِ ادب سے شاہ کے صف بڑھ کے تھم گئیپٹری ہر اک سوار کی گھوڑے پہ جم گئی

۲۶

تنتا ہوا بڑھا کوئی قبضے کو چوم کےبھالا کسی نے رکھ لیا کاندھے پہ جھوم کےبولا کوئی یہ غول ہیں کیا شام و روم کےٹکڑے اڑائیں گے عمر و شمر شوم کےنامرد ہیں جو آنکھ چراتے ہیں مرد سےدونوں کو چار کر کے پھریں گے نبرد سے

۲۷

دو لاکھ سے نظر کسی غازی کی لڑ گئیبل کھا کے رخ پہ زلف کسی کی اکڑ گئیچتون کسی کی شورِ دہل سے بگڑ گئیمنہ سرخ ہو گیا شکن آبرو پہ پڑ گئینکلا کوئی سمند کو رانوں میں داب کےغصے سے رہ گیا کوئی ہونٹوں کو چاب کے

۲۸

بڑھ کر کسی نے تیر ملایا کمان سےنیزہ کوئی ہلانے لگا آن بان سےنعرہ کسی کا پار ہوا آسمان سےتلوار کھینچ لی کسی صفدر نے میان سےایک شور تھا کہ تلخ کیا ہے حیات کولاشوں سے چل کے پاٹ دو نہرِ فرات کو

۲۹

سنتے ہی یہ کلام جو انانِ نام ورلڑکے الگ کھڑے ہوئے غول اپنا باندھ کرکہتے تھے نیمچے لیے وہ غیرتِ قمریارب شکست کوفیوں کو دے ہمیں ظفرسر کے نہ پھر وغا میں جو بڑھ کے قدم گڑےجاکر درِ یزید پہ اپنا علم گڑے

۳۰

عباس شہ سے کہتے تھے بپھرے ہوئے ہیں شیرتیر اس طرف سے آ چکے اب کس لیے ہے دیردو دن کی بھوک پیاس میں ہیں زندگی سے سیرمولا غلام سے کہیں رکنے کے یہ دلیرپاسِ ادب سے غیظ کو ٹالے ہوئے ہیں یہشیر خدا کی گود کے پالے ہوئے ہیں یہ

۳۱

کس کو ہٹائے کس کو سنبھالے یہ جاں نثارمرنے پہ ایک دل ہیں بہتر وفا شعارہے مصلحت کو دیجیے اب اذن کار زارایسا نہ ہو کہ جا پڑیں شکر پہ ایک باربرہم ہیں سر کشی پہ سوارانِ شام کیاکبر کی بات مانتے ہیں نہ غلام کی

۳۲

جب روکتا ہوں میں انہیں اے آسماں سریرکہتے ہیں کیوں امام کی جانب لگائے تیرباندھے ہے سر کشی پہ کمر لشکرِ شریرہنگام جنگ شیر کے بچے ہوں گوشہ گیرکس قہر کی نظر سے لعینوں کو تکتے ہیںبچوں کو ہے یہ غیظ کہ آنسو ٹپکتے ہیں

۳۳

اک اک جری کو تشنہ جرأت کا جوش ہےعالم ہے بے خودی کا پہ مرنے کا ہوش ہےہر صف میں یا علی ولی کا خروش ہےکہتے ہیں بار بار کہ سر بارِ دوش ہےمشتاق ہیں وہ پیاس میں تیغوں کے گھاٹ کےڈر ہے کہ مر نہ جائیں گلے کاٹ کاٹ کے

۳۴

حسرت سے کی سوئے رفقا شاہ نے نظربولے حبیب نذر کو حاضر ہیں سب کے سرفرمایا شہ نے ہم بھی ہیں آمادۂ سفراچھا بڑھے جہاد کو ایک ایک نام وریہ راہِ حق ہے جو قدم آگے بڑھائے گادربارِ مصطفی میں وہی پہلے جائے گا

۳۵

مژدہ یہ سن کے شاد ہوئے غازیانِ دیںاک اک دلیر جانے لگا سوئے فوج کیںجب نعرہ زن ہوئے صفتِ شیر خشمگیںتھرائے آسماں کے طبق ہل گئی زمیںبرپا تھا شورِ حشر دلیروں کی حرب سےفوجیں تو کیا جہاں تہہ و بالا تھا ضرب سے

۳۶

اللہ رے جہاد حبیب و زہیرقینگویا بپا تھا معرکۂ خندق و حنینجب مر گئے وہ عاشقِ سلطان مشرقینمقتل میں پیٹتے ہوئے دوڑے گئے حسینیوں جاکے روئے ان کے تنِ پاش پاش پرجس طرح بھائی روتا ہے بھائی کی لاش پر

۳۷

خالی ہوا قدیم رفیقوں کا جب پراکانپا سپہر شہ نے دمِ سردیوں بھراکٹنے لگا عزیزوں کا بھی جب چمن ہراگہ روئے آپ ہاتھ جگر پر کبھی دھرالڑکے جو یک بہ یک کئی ہاتھوں سے کھو گئےٹکڑے حسن کی طرح کلیجے کے ہو گئے

۳۸

تھی قہر حق عقیل کے پوتوں کی کارزارشمشیر حیدری کا نمونہ تھے جن کے وارعزت عرب کی رکھ گئے جعفر کے یادگارتھے تین چار شیر کہ جھپٹے سوئے شکارفتح و ظفر تھی مثلِ علی اختیار میںپنجے میں تھا وہی جسے تاکا ہزار میں

۳۹

نکلے برادران علمدارِ صف شکندکھلا دیے علی کی لڑائی کے سب چلنبے سر تھے مورچوں میں جوانانِ پیل تنلاشوں پہ لاشیں گرتی تھیں پڑتا تھارن پہ رنآنکھوں میں پھر رہی تھی چمک زوالفقار کیعباس داد دیتے تھے ایک ایک دار کی

۴۰

تھا چھوٹے بھائیوں کے لیے مضطرب جو دلگہ شہ کے پاس تھے کبھی لشکر کے متصلنعرہ یہ تھا کہ شیر ہے ماں کا تمہیں بحلشیرو رکے نہ ہاتھ بدن گو ہے مضمحلیہ وقتِ آبرو ہے بڑی جد و کد کروہاں بھائیو امام کی اپنے مدد کرو

۴۱

الٹو پروں کو بڑھ کے صفوں کو بچھا کے آؤساحل کے پاس خون کا دریا بہا کے آؤجب باگ اٹھاؤ فوج کے اس پار جا کے آؤیا مر کے آؤ یا انہیں رن سے بھگا کے آؤہاں صفدر و نشاں نہ رہے فوجِ شام کابیٹوں کو پاس چاہیے بابا کے نام کا

۴۲

رہ کر حسین کہتے تھے بھائی سے دم بہ دمدولت پدر کی لٹتی ہے اور دیکھتے ہیں ہمجینے نہ دے گا آہ ہمیں بھایئوں کا غمعباس عرض کرتے تھے اے قبلۂ امماب باپ کی جگہ شہ عالی مقام ہیںصدقے نہ کس طرح ہوں کہ ہم سب غلام ہیں

۴۳

بے جاں ہوئے جو راہِ خدا میں دو شیرِ نرحضرت ضعیف ہو گئے خم ہو گئی کمرماتم میں تھے کہ موت نے لوٹا حسن کاگھراک دم میں قتل ہو گئے دونوں جواں پسرسب چل بسے نبی و علی پاس رہ گئےستر دو تن میں اکبر و عباس رہ گئے

۴۴

آیا نظر جو لاشۂ نوشاہِ نیک خواکبر کی چشمِ تر سے ٹپکنے لگا لہوکی غیظ کی نظر طربِ لشکرِ عدوپہلے سے آئے روتے ہوئے شہ کے روبرونکلی یہ بات جوشِ بکا میں زبان سےقاسم کے ساتھ جائیں گے ہم بھی جہان سے

۴۵

بچپن سے ہم سے یہ نہ ہوئے تھے کبھی جداسوئے تو ایک فرش یہ کھیلے تو ایک جاطفلی کا ساتھ چھوٹ گیا وامصیبتامرجائے ایسا بھائی تو جینے کا لطف کیاحسرت یہ ہے کہ تیغوں سے تن پاش پاش ہوپہلو میں ابنِ عم کے ہماری بھی لاش ہو

۴۶

شہ نے کہا کہ سچ ہے یہ ایسا ہی ہے المخالق جہاں میں بھائی کا بھائی کو دے نہ غمبازو کا ٹوٹنا اجل آنے سے کیا ہے کممر مر کے غم میں بھائی حسن کے جیے ہیں ہمتازہ تھا غم پدر کا خوشی دل سے فوت تھیعباسِ نامدار نہ ہوتے تو موت تھی

۴۷

بھائی کے بعد ان سے ملی لذتِ حیاتبے کس کے غم گسار تھے یہ یا خدا کی ذاتخالی نہ پائی مہرو مروت سے کوئی باتسویا جو میں تو ان کو کٹی جاگنے میں راتصدمے بھلائے دل سے حسن کی جدائی کےرونے نہیں دیا مجھے ماتم میں بھائی کے

۴۸

ہے ان کے اتحاد کا سب سے جدا مزابیٹے کا لطف بھائی کاحظ باپ کا مزاملتا ہے بات بات میں ہر دم نیا مزااوجھل یہ آنکھ سے ہوں تو جینے کا کیا مزاقائم رکھے خدا کہ علی کے نشان ہیںمالک یہی ہیں گھر کے یہی تن کی جان ہیں

۴۹

قوت جگر کی تم ہو تو یہ بازوؤں کا زوربچھڑا جو دو میں ایک تو پھر میں کنار گورہوتا ہے زخمِ دل پہ نمک آنسوؤں کا شورجب پتلیاں جدا ہوں تو چشمِ بشر ہے کورتم پہلوؤں میں تھے جو یہ بے کس سنبھل گیاپھر خاتمہ ہے جسم سے جب دم نکل گیا

۵۰

ان سے نشان علی کا ہے تم سے ہمارا نامگھر ہٹ گیا نبی کا جو دونوں ہوئے تماممیت کے دفن کا بھی مقدم ہے انتظاممرنے کے بعد کوئی توآئے ہمارے کامتربت پہ تم سے گل ہوں تو دل باغ باغ ہواندھیر ہے جو قبر پدر بے چراغ ہو

۵۱

کیجو نہ ذکر ہجر پہ صدمہ ہے دل خراشبہرِ پدر کرو کفن و گور کی تلاشہوگا یہ جسم ظلم کی تیغوں سے پاش پاشدو شخص چاہیے کہ اٹھائیں ہماری لاشرونے کوکوئی دوست نہ یارو سرہانے ہوفرزند پائینتی ہو برادر سرہانے ہو

۵۲

اکبر نے سن کے باپ سے یہ اشکِ خوں بہائےعباس بول اٹھے نہ خدا وہ گھڑی دکھائےہے زندگی یہی کہ ہمیں پہلے موت آئےخاک اس غلام پر کہ جو آقا کی لاش اٹھائےدستِ قوی ہیں نیزہ وصمصام کے لیےپائیں ہیں کیا یہ ہاتھ اسی کام کے لیے

۵۳

بس گر پڑا یہ کہہ کے قدم پر وہ باوفاجھک کر کہا حسین نے بھائی یہ کیا کیاقاسم کا ذکر کرتے تھے ہم شکلِ مصطفیباتیں تو ان سے تھٰں تمہیں کیوں غیظ آ گیاہم تم تو ساتھ گلشنِ ہستی سے جائیں گےاچھا ہماری لاش کو اکبر اٹھائیں گے

۵۴

اٹھے قدم سے آپ کی الفت کے میں نثارغصے میں بھول جاتے ہو بھیا ہمارا پیارآنکھیں قدم پر مل کے یہ بولا وہ نام داربے اذن جنگ سر نہ اٹھائیں گا خاکسارایسا نہ ہوں خجل ہوں رسالت مآب سےپہلے مروں گا اکبرِ عالی جناب سے

۵۵

صدقہ علی کی روح کا اکبر کو رو کیےدے کر قسم شبیہ پیمبر کو روکیےنورِ نگاہِ بانوئے بے پر کو روکیےاے آفتابِ دیں مہِ انور کو روکیےپہلے رضا ملے تو بہت نیک نام ہوںآقا یہ شاہزادہ ہے اور میں غلام ہوں

۵۶

شہ نے کہا کہ سر تو قدم سے اٹھائیےلیجے رضائے جنگ نہ آنسو بہائیےفرقت میں ہم مریں کہ جئیں خیر جائیےاپنی سکینۂ جان سے جاکر مل آئیےزوجہ کو پیٹتے ہوئے سر دیکھ لیجیےبچوں کو اور ایک نظر دیکھ لیجیے

۵۷

عباس شہ کے گرد پھرے آٹھ کے سات باربھائی کو گھر میں لے کےچلے شاہِ ذی وقاربولا یہ پیک شاطر فوجِ ستم شعارلو اذن جنگ پا چکے عباس نام دارخود دیکھ کر یہ حال پھرا ہوں میں راہ سےملنے گئے ہیں خیمے میں ناموسِ شاہ سے

۵۸

تھے آگے آگے ہاتھوں سے تھامے کمر امامنعرہ یہ دم بہ دم تھا کہ اب ہم ہوئے تمامتیغوں سے گھاٹ روک لو آیا وہ نیک ناماب معرکہ ہے قبر کا اے ساکنانِ شامدیکھو بچے رہو کہ لڑائی ہے شیر سےچھوٹے گی مشکلوں میں ترائی دلیر سے

۵۹

دل مل گئے سپاہ کے سنتے ہی یہ خبرکانپے مثالِ بید جو انانِ پر جگرہل چل میں اس طرف کے پرے ہو گئے ادھرساحل سے ہٹ کے نہر پکاری کہ الحذرپیچھے ہٹیں صفیں یہ تلاطم عیاں ہوادریا جو باڑھ پر تھا وہ الٹا رواں ہوا

۶۰

ٹوٹے وہ مورچے جو بندھے تھے پۓ جدالبرچھی گری زمیں پہ کسی کی کسی کی ڈھالاللہ ری ہیبتِ خلفِ شیر ذوالجلالکانپی زمیں کھڑے ہوئے روئیں تنوں کے بالمنہ زرد ہو کے رہ گیا ہر نوجوان کادشتِ نبرد کھیت بنا زعفران کا

۶۱

تھا شش جہت میں غل کہ یہ ہے روزِ انقلابالٹے گا اس زمیں کا ورق ابنِ بوتراباس شیر پر نہ ہوگی کوئی فوج فتح یاببس اب بنائے عالمِ امکاں ہوئی خرابحملہ غضب ہے بازوئے شاہِ حجاز کالنگر نہ ٹو جائے زمیں کے جہاز کا

۶۲

ڈر ہے ہوا تھی ایک طرف گرد اک طرفبھرتے تھے خیبری بھی دمِ سرد اک طرفسمٹے ہوئے تھے کوفے کے نامرد اک طرفتھے رو سیاہ شام کے سب زرد اکطرفبھاگے تھے نیزہ باز لڑائی کو چھوڑ کےضیغم نکل گئے تھے ترائی کو چھوڑ کے

۶۳

تھی ابتری سپاہِ ضلالت شعار میںاس صف میں تھی وہ صف یہ قطار اس قطار میںسو بار جو لڑے تھے اکیلے ہزار میںوہ جائے امن ڈھونڈھتے تھے کارزار میںچہرے تھے زرد خوف سے حیدر کے لال کےنامرد منہ چھپائے تھے گھونگھٹ میں ڈھال کے

۶۴

سر کو دہائے فوجِ مخالف تھے بے حواسکچھ شمر کے قریب تھے کچھ تھے عمرکے پاسسب کا یہ قول تھا کہ ہوئی زندگی سے یاسضرب علی ہے ضربِ علمدارِ حق شناسطاقت سے ہیں بھرے ہوئے بازو دلیر کےخیبر کشا کا زور ہے پنجے میں شیر کے

۶۵

اس فوج میں ہے گو یہ تزلزل یہ انتشارہتھیار ادھر لگاتے ہیں عباسِ نامدارمضطر ہیں بیبیاں شہِ والا ہیں بے قراربھائی کے منہ کو دیکھ کے روتے ہیں زار زاربیٹا کھڑا ہے چاک گریباں کیے ہوئےروتی ہے سوکھی مشک سکینہ لیے ہوئے

۶۶

منہ دیکھتی ہے باپ کا جب وہ بہ چشم ترکہتے ہیں یہ اشارے سے سلطانِ بحر و برلٹتا ہے باپ تم کو سکینہ نہیں خبرجانے نہ دو چچا کو ہمیں چاہتی ہو گرآنسو بہا بہا کے نہ پانی کا نام لودامن قبا کا ننھے سے ہاتھوں سے تھام لو

۶۷

بھائی کے اضطراب سے زینب کا ہے یہ حالڈھلکی ہوئی ہے سر سے روا اور کھلے ہیں بالعباس سے یہ کہتی ہے رو کر بہ صد ملالچھوڑو نہ شہ کو اے اسدِ کربیا کے لالکیا کہتے ہو سکینہ سے منہ موڑ موڑ کےبھیا کدھر چلے مرے بھائی کو چھوڑ کے

۶۸

دیکھو تو حال سبط رسول فلک اساسبیٹے کا غم بھتیجے کا ماتم ہجوم یاسہے کثرتِ سپاہ میں تنہا وہ حق شناسقربان جاؤں تم تو رہو بے وطن کے پاسعاشق ہو دلبرِ اسد ذوالجلال کےبازو قوی تمہیں سے ہیں زہرا کے لال کے

۶۹

عباس کہتے ہیں کہ نہ جاؤں تو کیا کروںکیوں کر نہ حق امامِ زماں کا ادا کروںالٹوں صفیں ہزاروں سے تنہا وغا کروںیہ سر ہے الیے کہ قدم پر فدا کروںپہونچا ہے فیض سیدِ خوشخو کے ہاتھ سےدنیا میں کچھ تو کام ہو بازو کے ہاتھ سے

۷۰

رخصت طلب ہے شاہ سے اکبر سالالہ فامشہزادہ مرے جائے سلامت رہے غلامللہ روکیے نہ اب اے خواہر اماموہ امر کیجیے کہ بڑھے جس سے میرا نامبیکس ہوں ساتھ ماں نہیں سر پر پدر نہیںمیں آپ کا غلام تو ہوں گو پسر نہیں

۷۱

باتیں یہ سن کے روتی ہیں زینب جھکا کے سرتھرا رہی ہے زوجہ عباس نام ورچہرہ تو فق ہے گود میں ہے چاند سا پسرمانع ہے شرم روتی ہے منہ پھیر پھیر کرموقع نہ روکنے کا ہے نے بول سکتی ہےحضرت کے منہ کو نرگسی آنکھوں سے تکتی ہے

۷۲

کہتی ہے رو کے بانوئے عالم سے بار بارہم کو تباہ کرتے ہیں عباسِ نام دارہے لونڈیوں کے باب میں بی بی کو اختیارکچھ آپ بولتی نہیں اس وقت میں نثارکہیے جو روکنے کی کوئی ان کے راہ ہواب عنقریب ہے کہ مرا گھر تباہ ہو

۷۳

اکبر کا واسطہ کوئی تدبیر کیجیےامداد بہرِ حضرتِ شپیر کیجیےکچھ دل کو ہو قرار وہ تقریر کیجیےپٹکا وہ باندھتے ہیں نہ تاخیر کیجیےاک دل ہے میرا اور کئی غم کے تیر ہیںبی بی میں کیا کروں مرے بچے صغیر ہیں

۷۴

عباس دیکھتے ہیں جو زوجہ کا اضطرارہوتا ہے تیر غم جگر ناتواں کے پارروتے ہیں خود مگر یہ اشار ہے بار بارشوہر کے غم میں یوں کوئی ہوتا ہے بیقرارآؤ ادب سے دلبرِ زہرا کے سامنےروتی ہیں لونڈیاں کہیں آقا کے سامنے

۷۵

کھولا ہے گوندھے بالوں کو صاحب یہ کیا یہ کیاپیٹو نہ سر کو روتا ہے فرزند مہ لقاخیرالنسا کے لال پہ ہوتے ہیں ہم فداشادی کا ہے مقام کہ ماتم کی ہے یہ جاایذا میں صبر صاحب ہمت کا کام ہےمیری بھی آبرو ہے تمہارا بھی نام ہے

۷۶

لو پونچھ ڈالو آنسوؤں کو بہرِ ذو الجلالدیکھو زیادہ رونے سے ہوگا ہمیں ملالمیر مفارفت کا نہ کیجو کبھی خیالقائم تمہارے سر پہ رہے فاطمہ کا لالغم چاہیے نہ آہ و بکا چاہیے تمہیںشہ کی سلامتی کی دعا چاہیے تمہیں

۷۷

صدقے ہیں ابنِ فاطمہ پر مجھ سے سو غلامدیکھو نہ روتے دیکھ لیں تم کو کہیں امامکیا اشکِ خوں بہا کے بگاڑوگی میرا کامہم ہاتھ جوڑتے ہیں یہ ہے صبر کا مقامپوچھیں حضورگر کہ تمہیں کیا قبول ہےصاحب یہ کہیو تم کہ رنڈاپا قبول ہے

۷۸

دیکھو کہ گھر میں اور بھی رانڈیں ہیں تین چارآدابِ شہ سے چپ ہیں نہیں کوئی بیقراررہ جائے بات کرتے ہیں وہ امرا ہوشیاردنیا ہے بے ثبات زمانہ ہے بے مدارکیا کیا نہ تفرقے ہوئے ایک ایک آن میںصاحب سدا کوئی بھی جیا ہے جہان میں

۷۹

قاسم کو دیکھو جانبِ کبرا کرو نگاہگذری جو شب تو صبح کو گھر ہو گیا تباہدشمن کو بھی دکھائے نہ اللہ ایسا بیاہکیا صابرہ ہے دخترِ شپیر واہ واہسہتے ہیں یوں جہاں میں جفارانڈ ہونے کیآواز بھی بھلا کوئی سنتا ہے رونے کی

۸۰

آفت میں صبر کرتی ہیں اس طرح بیبیاںہوتا ہے صابروں کا مصیبت میں امتحاںجل جائے دل مگر نہ اٹھے آہ کا دھواںاف کیجیے نہ منہ سے جو پہونچے لبوں پہ جاںچرچا رہے کہ وقت پہ کیا کام کر گئیچھوٹی بہو علی کا بڑا نام کر گئی

۸۱

شوہر نے یہ کلام کیے جب بہ چشم ترچپ ہو گئی وہ صاحب ہمت جھکا کے سرہتھیار سج کے حضرتِ عباس نامورآئے قریب لختِ دل سیدالبشرصدمے سے رنگِ سبطِ نئی زرد ہو گیاکانپے یہ دست و پاک بدن سرد ہو گیا

۸۲

جوں جوں قریب آتے تھے عباس ناموربے تاب تھے حسین سنبھالے ہوئے جگرکہتے تھے اضطراب میں جھک کر ادھر ادھرجینے نہ دے گا آہ ہمیں صدمۂ کمرہے زیست تلخ فاطمہ کے نورِعین کوزینب کہاں ہو؟ آ کے سنبھالو حسین کو

۸۳

سب گھر کی بیٹیوں سے کہو میرے پاس آئیںبانو کہاں ہیں زوجۂ عباس کو بلائیںگودی میں تشنہ کام سکینہ کو جلد لائیںکوچ اب جہاں سے ہے ہمیں سب آکے دیکھ جائیںیہ نوجواں سنبھالے گا جس دم مروں گا میںعباس سے ہر اک کی سفارش کروں گا میں

۸۴

یہ سن کے ساری بیبیاں آئیں یہ حالِ زاربولے قدم پہ جھک کے یہ عباسِ نامداراے آفتابِ عالمیاں نورِ کردگارہل من مبارز ًکا ادھر غل ہے بار بارہیں ذرہ پروری کے چلن آفتاب میںآقا یہ دیر کس لیے خادم کے باب میں

۸۵

لڑکوں نے معرکہ میں کیے اپنے اپنے نامکیا میں غلامِ خاص نہیں یا شہِ انامایسا دن اور بھی کوئی ہوئے گا یا امامکسا کام کا جو آج نہ کام آئے گا غلاممشکل ہے ایسے وقت میں رکنا دلیر کاآخر پسر ہوں شیر الٰہی سے شیر کا

۸۶

ہوتا جو سب سے پہلے فدا خادمِ جنابخوش ہوتی خاکسار سے روحِ ابوتراباب ہوں ہر اک کے آگے خجالت سے آب آبزہرا سے بھی حجاب ہے شبر سے بھی حجاباب بھی نہ تیغ و تیر اگر تن پہ کھاؤں گامولا بتائیے کسے پھر منہ دکھاؤں گا

۸۷

ساتھ آپ کے سہوں گا نہ گر قتل کی جفامجھ سے رسولِ پاک خوشی ہوں گے یا خفا؟بیزار کیا نہو ہوگا دلِ شاہ لافتاپھر فاطمہ کہیں گی مجھے صاحبِ وفا؟مرنے کا خط نہ جینے کا مطلق مزا رہاانساں کی آبرو نہ رہی جب تو کیا رہا

۸۸

پالا ہے مجھ کو یاشہ دل گیر آپ نےکی ہے ہمیشہ پیار سے تقریر آپ نےبندھوائی ہے کمر سے یہ شمشیر آپ نےبخشی ہے سب میں عزت و توقیر آپ نےوقتِ مدد ہے آج بھی امداد کیجیےبندہ سمجھ کے اب مجھے آزاد کیجیے

۸۹

گردن ہلا کے شہ نے کہا آہ کیا کروں؟مشکل ہے سخت اے مرے واللہ کیا کروں؟جینے نہ دے گا یہ غمِ جاں کاہ کیا کروں؟چھٹتا ہے اب برادرِ ذی جاہ کیا کروں؟دم بھر کی زندگی مجھے دشوار ہو گئیسب تو خفا تھے موت بھی بیزار ہو گئی

۹۰

غازی نے رکھ دیا قدم شاہِ دیں پہ سربولے گلے لگا کے شہنشاہ بحرو براے تن کی جان اے سبب قوتِ جگریوں ہے خوشی تو خیر جہاں سے کرو سفربھائی نہ ہو تو بھائی کی مٹی خراب ہےاچھا تمہارا کوچ مرا پاتر اب ہے

۹۱

روتا ہوا جھکا پے تسلیم وہ جریسب روئے مشک دوشِ مبارک پہ جب دھریاک آہِ سرد زوجۂ عباس نے بھریصدمے سے رنگ زرد تھا اور تن میں تھرتھریسر سے روا بھی دوش تلک آ کے گر پڑیبانو کے پاس خاک پہ غش کھا کے گر پڑی

۹۲

نکلا وہ شیر خیمے سے باہر علم لیےمجرے کو آئی فتح سپاہ حشم لیےجرأت نے بڑھ کے بوسۂ تیغِ دو دم لیےنصرت نے چومے ہاتھ ظفر نے قدم لیےخورشید کا جلال نگاہو سے گر گیااقبال سر کے گرد ہما بن کے پھر گیا

۹۳

آیا سجا ہوا وہ سمندبراق سیرتھا جو فلک پہ اڑنے کو تیار مثلِ طیرہوتا تھا اس کے ڈر سے غزالوں کا حال غیررن میں سپاہِ شر اسے رو کے تو یہ بخیرصر صر قدم کی گرد کو پاتی نہیں کبھیڈھونڈھے بشر پری نظر آتی نہیں کبھی

۹۴

وہ زیب و زین زین کی وہ ساز وہ پھبنزیور سے جیسے ہوتی ہے آراستہ دلہنچشمِ سیاہ دیدۂآہوپہ طعنہ زنسرعت یہ تھی کہ بھولتے تھے چوکڑی ہرنجادو تھا معجزہ تھا پری تھی طلسم تھاپاکھر نہ تھی زرہ میں تہمتن کا جسم تھا

۹۵

رکھا قدم رکاب میں حیدر کے لال نےنعلین پاک فخر سے چوما ہلال نےبخشی جو صدرِ زیں کو ضیا خوش جمال نےدم کو چنور کیا فرس بے مثال نےکس ناز سے وہ رشکِ غزالِ ختن چلاطاؤس تھا کہ سیر کو سوئے چمن چلا

۹۶

خوشبو سے ارضِ پاک ریاضِ جناں بنیگرد اٹھ کے غازۂ رخ لیلیٰ نشاں بنیجلوے سے راہِ دشتِ بلا کہکشاں بنیذرے بنے نجوم زمیں آسماں بنیسم بدر تھے تو نعل بھی چاروں ہلال تھےنقشِ سم فرس سے ہزاروں ہلال تھے

۹۷

وہ دبدبہ وہ سطوتِ شاہانہ وہ شبابتھرا رہا تھا جس کی جلالت سے آفتابوہ رعبِ حق کہ شیر کا زہرہ ہو آب آبصولت میں فرد دفترِ جرأت میں انتخابتیور میں سارے طور خدا کے ولی کے ہیںشوکت پکارتی ہے کہ بیٹے علی کے ہیں

۹۸

پہونچے جو دشتِ کیں میں اڑاتے ہوئے فرسگھوڑے کو ہاتھ اٹھا کے یہ آواز دی کہ بسدیکھیں صفیں جمی جو چپ و راس و پیش و پسنعرہ کیا کہ نہر پہ جانے کی ہے ہوسروکے گا جو وہ موت کے پنجے میں آئے گاہٹ جاؤ سب کہ شیر ترائی میں جائے گا

۹۹

روکے ہمیں نکل کے جو طاقت کسی میں ہولے تیغ میان سے جو شجاعت کسی میں ہوگرمائے رخش کو جو حرارت کسی میں ہوآئے جو حرب ضرب کی قدرت کسی میں ہودو ہاتھ میں علی کے پسر آر پار ہیںدریا نہیں کہ رک گیا ہم ذوالفقار ہیں

۱۰۰

تم کیا پہاڑ بیچ میں گر ہو تو ٹال دیںشیروں کو ہم ترائی سے باہر نکال دیںمہلت نہ ایک کو دم جنگ و جدال دیںپانی تو کیا ہے آگ میں گھوڑے کو ڈال دیںمنہ دیکھتے ہیں جو ہیں نگہبان گھاٹ کےلے جائیں گھر پہ تیغ سے دریا کو کاٹ کے

۱۰۱

سرکش ہیں سب ہماری زبردستوں سے زیردادا شجاع باپ الوالعزم ہم دلیرجب رن پڑا ہے کردیے ہیں زخمیوں کے ڈھیرلائے ہیں جا کے آگ سے پانی خدا کے شیرعفریت بھاگتے ہیں وہ چوٹیں ہماری ہیںبیر العلم میں کود کے تلواریں ماری ہیں

۱۰۲

جرأت جلو میں رہتی ہے نصرت رکاب میںلیتے ہیں گھاٹ پیر کے تیغوں کی آب میںلکھے ہوئے ہیں شیروں کے حملے کتاب میںفصلیں ہیں اپنے زور کی خیبر کے باب میںناصر ہیں بادشاہ فلک بارگاہ کےدفتر الٹ دیے ہیں عرب کی سپاہ کے

۱۰۳

بے مشک کے بھرے ہمیں آتا ہے چین کبگرمی میں پیاس سے کئی بچے ہیں جاں بلباصفر کی گودیوں میں تڑپتے کٹی ہے شبکیا وقت ہے حسین کے بچوں پہ ہے عضبلالے پڑے ہوئے ہیں سکینہ کی جان کےکانٹے مجھے دکھائے تھے سوکھی زبان کے

۱۰۴

عبرت کی یہ جگہ ہے کہ ہم اورسوالِ آبسقہ بنے ہیں دیکھ کے بچوں کا اضطراباس مشک نے کیا ہمیں عقبیٰ میں کامیاباللہ ری آبرو کہ بہشتی ملا خطابشہ سے نشانِ فوجِ پیمبر بھی مل گیاطوبیٰ کے ساتھ چشمہ ٔ کوثر بھی مل گیا

۱۰۵

یہ ذکر تھا کہ فوج کی جانب سے تیر آئےنیزے اٹھا کے شیر کے منہ پر شریر آئےیہ بھی جھپٹ کے مثلِ شہِ قلعہ گیر آئےگیتی ہلی غضب میں جناب امیر آئےگھوڑا اڑا پروں کو سواروں کے توڑ کےلپکی صفوں پہ سیف بھی کاٹھی کو چھوڑ کے

۱۰۶

آمد تھی تیغ کی کہ اجل کا پیام تھایہ صف اخیر تھی وہ رسالہ تمام تھابجلی سا ہر جگہ فرس تیز گام تھاششدر تھی موت چار طرف قتلِ عام تھااس غول پر کبھی تھی کبھی اس قطار پرپڑتا تھا ایک تیغ کا سایہ ہزار پر

۱۰۷

وہ تیغ کی چمک وہ تڑپ راہوار کیرفرف کی اک شبیہ تو اک ذوالفقار کیشوکت سوار میں شہ دلدل سوار کیحملوں میں شان سب اسدِ کردگار کیچتون وہی غضب وہی بے باکیاں وہیپھرتی وہی جھپٹ وہی چالاکیاں وہی

۱۰۸

توڑا یہ مورچہ یہ صف الٹی ادھر پھرےتلوار خوں میں آپ پسینے میں تر پھرےیوں خاک پہ گرا کے لعینوں کے سر پھرےجیسے شکار کھیلے ہوئے شیرِ نر پھرےتھی قہر کی نگاہ غضب کا جلال تھاآنکھیں بھی سرخ سرخ تھیں چہرہ بھی لال تھا

۱۰۹

منہ پھر گئے سپاہ کے جس سمت رخ کیایاں سے وہاں گئے اسے مارا اسے لیاباقی رہے ہزار میں سو دس میں ایک جیااللہ رے دم لہو پہ لہو تیغ نے پیااس پر بھی تشنگی کو نہ تسکیں ذری ہوئیگو یا تھی آگ پیٹ میں اس کے بھری ہوئی

۱۱۰

بے شک تھا ان کا ہاتھ امیرِ عرب کا ہاتھپہونچا وغا میں سو طرف اک تشنہ لب کا ہاتھآئی اجل اٹھا جو کسی بے ادب کا ہاتھشیرِ خدا کے شیر نے مارا غضب کا ہاتھبازو پہ آئی تیغ دو دم شانہ کاٹ کےپہنچے کو بھی قلم کیا دستا نہ کاٹ کے

۱۱۱

چلتا تھا مثلِ برق یمین و یسار ہاتھڈر ڈر کے جوڑتے تھے ضلالت شعار ہاتھان کی نہ ایک ضرب نہ ان کے ہزار ہاتھکافی تھے سب کو تیغِ دو دستی کے چار ہاتھآواز شش جہت مین بگیروبزن کی تھیاللہ کا کرم تھا مدد پنجتن کی تھی

۱۱۲

نعرہ جدا صدائے بگیرِ و برہ جداگوشہ کماں سے دور تھے گوشوں سے رہ جدابکتر جدا زمین پہ ٹکڑے زرہ جدانیزوں کو دیکھیے تو گرہ سے گرہ جدااللہ رے فرق گردن وسر بھی بہم نہ تھےکشتوں کا ذکر کیا ہے کہ تیغوں میں دم نہ تھے

۱۱۳

جس کی طرف نظر دمِ جنگ و جلد پھریکچھ ہٹ کے تیغ سے اسی جانب اجل پھریرہواریوں پھرا کہ اشارے میں کل پھریتلوار بھی گلوں کی طرف بر محل پھریایسے جری سے کس کو مجالِ مصاف تھییوں پھر کے صف کی صف کو جو دیکھا تو صاف تھی

۱۱۴

چل پھر کے کاٹتی تھی وہ تلواریں ہاتھ پاؤںڈر سے بڑھا نہ سکتے تھے خونخوار ہاتھ پاؤںسر بچ گیا تو ہو گئے بیکار ہاتھ پاؤںچمکی گری تو آٹھ ہوئے چار ہاتھ پاؤںروحیں پکاریں تیغ پھر آئی نکل چلوبولی اجل اب اٹھ کے تو پنجوں کے بل چلو

۱۱۵

تیرے ادھر قلم تو ادھر برچھیاں قلمترکش دو نیم ٹکڑے کمانیں نشاں قلمہر ہاتھ میں قلم کی طرح استخواں قلممنہ تیغ کا خراب سناں کی زباں قلمجب سن سے آئی سر پہ کسی بد خصال کےگویا سموم چل گئی پھولوں پہ ڈھال کے

۱۱۶

کی جس نے سر کشی وہی فتنہ فروہواظالم ہزار میں تھا جو یکتاوہ دو ہواافشاں لہو سے شیر کا دستِ نکو ہواٹھنڈا وہی تھا جنگ پر سرگرم جو ہواتھا خاتمہ سپاہ جہنم مقام کاشعلے بجھائے دیتا تھا پانی حسام کا

۱۱۷

وہ تیغ کھول دیتی تھی لوہے کا بھی حصارتھا اس کے ہاتھ سے دلِ چار آئینہ فگارآری تھیں منہ پہ تیغوں کے ایسے پڑے تھے دارخود اپنے سر پٹکتے تھے گر گر کے بار بارپانی وہ زہر تھا کہ پیا اور فنا ہواہے آج تک زرہ کا کلیجہ چھنا ہوا

۱۱۸

جاتی تھی ہر سرے کی طرف سن کے بار بارچڑھ کے سوار گرتے تھے تو سن کے بار باراٹھتی تھی الاماں کی صدا رن سے بار بارہر سر کا بار اترتا تھا گردن سے بار بارغارت ہوئے تباہ ہوئے بے تزک ہوئےضربِ گراں جو اٹھ نہ سکی کیا سبک ہوئے

۱۱۹

ثابت رہی نہ ڈھال نہ مغفر نہ سر بچاسینے میں دل کو کاٹ گئی گر جگر بچادو ٹکڑے ہو گیا وہ ادھر جو ادھر بچابے زخم کھائے ایک نہ بیداد گر بچاتلوار سے کوئی کوئی ڈر سے ہلاک تھاسالم تھا جس کا جسم جگر اس کا چاک تھا

۱۲۰

سر سے کمر میں تھی تو کمر سے تہ فرسآفت کا منہ تھا قہر کا دم خم ستم کا کسکشتے تڑپ رہے تھے چپ و راس پیش و پسدو تھے اگر تو چار ہوئے پانچ تھے تو دسغل تھا وہی لڑے جسے سر تن پہ بار ہوآفت بپا ہے کون اجل سے دو چار ہو

۱۲۱

غل تھا شرارتوں سے اس آتش زبان کیپریاں پکارتی تھیں کہ ہو خیر جان کیدنیا میں شعلہ بار ہے آگ اس جہان کیبدلی ہوئی ہے آج ہوا آسمان کیبجلی خجل ہے نازیہ اس شعر خو کے ہیںبوچھاڑ ہے سروں کی در یڑے لہو کے ہیں

۱۲۲

جب بڑھ کے سن سے صورتِ تیغ علی چلیثابت ہوا کہ ضربتِ دستِ ولی چلیدل پر خفی چلی تو گلوں پر جلی چلیتن سے نکل کے روح پکاری چلی چلیدی تیغ نے صدا کہ ارادہ کدھر کا ہےچلائی موت چل یہی رستا سقر کا ہے

۱۲۳

خشکی میں تھی جو آپ تو آتش تری میں تھیہم نام ذوالفقار علی صفدری میں تھیتلوار تھی کہ برق لباس پری میں تھیبے باک اس لیے تھی کہ دستِ جری میں تھیخوں بھی اسے حلال دیت بھی معاف تھیکاٹا تھا سو گلوں کو مگر پاک صاف تھی

۱۲۴

سارے رسالہ دار تباہی میں پڑ گئےاب منہ کسے دکھائیں کہ چہرے بگڑ گئےنامی جو تھے جواں قدم ان کے اکھڑ گئےبھاگے جو سب نشاں بھی خجالت سے گڑ گئےعلموں کے پاس ڈھیرے پھریروں کے رن میں تھےریتی پہ بیرقیں تھیں کہ مردے کفن میں تھے

۱۲۵

پہنے ہوئے تھے جسم میں زر ہیں جو چست چستچوٹیں کڑی پڑیں تو ہوئے وہ بھی سخت سستخوفِ اجل سے بھول گئے وعدۂ نخستٹوٹی صفوں میں ہاتھ کسی کے نہ تھے درستاک شور تھا کہ جان گئی اس لڑائی میںگھوڑے بھگاؤ آگ لگی ہے ترائی میں

۱۲۶

گھیرے تھے ایک جان کو دو لاکھ اہلِ شہرٹھہرے کہاں قرار کہاں لیں تھمیں کدھرچھاتی کے پاس برچھیاں تیغیں قریبِ سرپہلو میں اس طرف تو سنائیں ادھر تبرملتی نہ تھی اماں سپہ تیرہ بخت سےگوشوں سے تیر چلتے تھے پتھر درخت سے

۱۲۷

جب مشک کی طرف کوئی آتا تھا سن سے تیرکہتے تھے یا حفیظ کبھی گاہ یا قدیرچلا رہا تھا شمر جفا پیشہ و شریرجانے نہ پائے لختِ دلِ شاہ قلعہ گیررخ اس جری کا خیمہ کی جانب سے موڑ دوہاں برچھیوں سے شیر کے سینہ کو توڑ دو

۱۲۸

سن کر زباں درازیِ شہرِ ستم شعارعباس مثلِ شیر جھپٹتے تھے بار بارتلواریں سیکڑوں تھیں ہزاروں تھے نیزہ دارتوڑی اگر یہ صف تو جمی دوسری قطارتنہا سنبھالے مشک و علم یاوغا کرےبلوہ ہو ساری فوج کا جس پر وہ کیا کرے

۱۲۹

مشہور ہے کہ ایک پہ بھاری ہیں دو بشردر پے تھے اک جواں کے لیے لاکھ اہلِ شرکھائے ادھر سے زخم جو کی اس طرف نظرکس کس کا وار رد کریں دیکھیں کدھر کدھرجب دم لیا تو سینہ پہ سو تیر چل گئےپہلو کو توڑ توڑ کے نیزے نکل گئے

۱۳۰

سینہ سپر تھے مشک پہ رو کے ہوئے تھے ڈھاللڑنے میں بھی حسین کے بچوں کا تھا خیالکہتا تھا ڈگمگا کے فرس پردہ خوش خصالفرزند کو سنبھالیے یا شیرِ ذوالجلالجا پہنچوں مشک لے کے جو تھوڑی سی راہ ہوایسا نہ ہو کہ پیاسوں کی کشتی تباہ ہو

۱۳۱

یہ کہتے تھے کہ ٹوٹ پڑا لشکرِ کثیربس چور ہو گیا پسرِ شاہ قلعہ گیرآکر لگا میان دوا ابرو جو ایک تیرتیور اگیا علی ٔولی کا مہ منیرچھوٹی جو باگ پاؤں فرس کے بھی رک گئےپھیلا کے ہاتھ مشک سکینہ پہ جھک گئے

۱۳۲

اب یاں تو خاتمہ ہے سنو اس طرف کا حالڈیوڑھی پہ ننگے سر ہے رسولِ خدا کا لالغم سے کمر جھکی ہوئی رخ زرد جی نڈھالیہ کرب ہے کہ ہوتا ہے جو وقتِ انتقالگر گر اٹھے تڑپ کے ادھر سےادھر گئےجب آہ کی تو سب نے یہ جانا کہ مر گئے

۱۳۳

فریاد کر کے دل کبھی تھا ما جگر کبھیپکڑی طناب خیمے کی گہ اور کمر کبھیگھبرا کے پیارے بھائی کو پوچھی خبر کبھیروئے پسر کی دوش پہ رکھ کھر کے سر کبھیکی آہ سامنے کبھی زہرا کی جائی کےرو کر کبھی لپٹ گئے بیٹے سے بھائی کے

۱۳۴

فرماتے تھے کراہ کے اکبر سے بار بارشانے دباؤ اے علی اکبر پدر نثارکیسا یہ درد ہے کہ جگر کو نہیں قراربازو کا زور لے گئے عباسِ نامدارواحسرتا کہ بے کس و بے یار ہو گئےسر پیٹیں کس سے ہاتھ تو بیکار ہو گئے

۱۳۵

چلاتے تھے کہ جانِ بر ادربس اب پھر آؤپہونچا ہے دم لبوں پہ ہمٰیں آ کے دیکھ جاؤبھیا خدا کے واسطے اب برچھیاں نہ کھاؤعباس ہم اخیر ہیں تشریف جلد لاؤپیاری تمہاری ننھے سے ہاتھوں کو ملتی ہےاب تم کو ڈھونڈھنے کو سکینہ نکلتی ہے

۱۳۶

حضرت تو پیٹتے ہیں یہ کہہ کر بہ صد ملالخیمے میں غش ہے زوجہ عباسِ خوش خصالڈیوڑھی پہ اہلِ بیت ہیں سب کھولے سر کے بالپردے سے منہ نکالے ہیں اطفالِ خورد ساللب ان کے اودے اودے ہیں منہ گورے گورے ہیںآنکھوں میں اشک ہاتھوں میں خالی کٹورے ہیں

۱۳۷

کہتے ہیں سب لبوں پہ زبانوں کو پھیر کراب پانی لے کے آتے ہیں عباس نام ورحضرت سے پوچھتی ہے سکینہ بہ چشمِ ترمیرے چچا کب آئیں گے یا شاہِ بحر و برکیا میں سفر کروں گی جہاں سے تب آئیں گےبہلاتے ہیں حسین کہ بی بی اب آئیں گے

۱۳۸

گھیرے ہیں لاکھ ان کو ستمگار ہائے ہائےمانگو دعا کہ بھائی کو میرے خدا بچائےوہ کہتی ہے میں پانی سے گذری نہ مشک آئےہے ہے بس اب چچا کو مرے کوئی پھیر لائےرکھے خدا جہاں میں علی کی نشانی کومیں کیا کروں گی آگ لگے ایسے پانی کو

۱۳۹

یہ ذکر تھا کہ فتح کے باجے بجے ادھرتڑپے زمیں پہ گر کے شہنشاہِ بحر و برچلائے بڑھکے فوج سے دو چار اہلِ شرحضرت کہاں ہیں مر گئے عباسِ نامورکیا کیا چلی ہیں تیغوں پہ تیغیں لڑائی میںوہ زخم کھائے شیر پڑا ہے ترائی میں

۱۴۰

افشاں ہیں سر کے خون کی چھینٹوں سے سب نشاںعباس کانپ جاتے تھے جھکتا تھا جب نشاںنام آوروں نے آج مٹایا عجب نشاںکیوں اے حسین کون اٹھائے گا اب نشاںلاش ان کی پائمال ہوئی زخم پھٹ گئےجن میں علی کا زور تھا وہ ہاتھ کٹ گئے

۱۴۱

آئی صدا یہ نہر کی جانب سے ایک بارآقا تمام ہوتا ہے یہ عبدِ جاں نثارتن سے نکل کے آنکھوں میں اٹکی ہے جانِ زاراب ہے فقط حضور کے آنے کا انتظاربابا کے ساتھ خلد سے تشریف لائی ہیںحضرت کی والدہ مرے لینے کو آئی ہیں

۱۴۲

شہ دوڑ کر پکارے کہ آتا ہوں بھائی جانگھر لٹ گیا ہے خاک اڑاتا ہوں بھائی جانطاقت بدن مین اب نہیں پاتا ہوں بھائی جاناک اک قدم پہ ٹھوکریں کھاتا ہوں بھائی جاندستِ شکستہ بیٹے کی گردن میں ڈالے ہیںبھیا ہمیں تو اکبر مہ رو سنبھالے ہیں

۱۴۳

دیکھا جو در سے بنتِ علی نے یہ شہ کا حالڈیوڑھی سے نکلی چند قدم کھولے سر کے بالچلاتی کون قتل ہوا اے علی کے لالمڑ کر کہا حسین نے عباس خوش خصالدریا پہ فوجِ شام نے مارا دلیر کوزینب اجل نے چھین لیا میرے شیر کو

۱۴۴

خورشید مشرقین زمانے سے اٹھ گیاسید کا نور عین زمانے نے سے اٹھ گیاوہ عاشقِ حسین زمانے سے اٹھ گیازینب ہمارا چین زمانے سے اٹھ گیاآتا نہیں قرار دلِ بے قرار کودریا پہ روئے جاتے ہیں خدمت گزار کو

۱۴۵

اکبر کو ہاتھ اٹھا کے پکاری وہ سوگوارہے ہے حسین ہو گئے بے یار و غم گسارماتم جوان بھائی کا ہے تم پہ میں نثاراکبر خدا کے واسطے بابا سے ہوشیارگرنے لگیں تو حیدرِ صفدر کا نام لوبیٹا پدر کے ہاتھ کو مضبوط تھام لو

۱۴۶

اکبر پدر کو تھامے ہوئے نہر پر جولائےغلطاں لہو میں بازوئے سرور کے ہاتھ پائےچلائے شاہ لاش کدھر ہے کوئی بتائےفرق آگیا ہماری بصارت میں ہائے ہائےرو لیں گلے لگا کے تنِ پاش پاش کواکبر ہمیں دکھا دو برادر کی لاش کو

۱۴۷

اکبر نے شہ کے ہاتھ پکڑ کر بہ صد بکارکھے چچا کے سینے پہ اور رو کے یہ کہالیجے یہی ہے لاشِ علمدار باوفاچلائے جھک کے لاش پہ سلطانِ کربلاٹوٹی ہوئی کمر ہے سنبھالو حسین کوبھیا ذرا گلے سے لگالو حسین کو

۱۴۸

عباس ہاتھ کٹ گئے شانوں سے ہے غضبریتی پہ دو طرف یہ تمہارا لہو ہے سبلوٹا ہمیں رسول کی امت نے بے سبببھیا ہماری جان نکلتی ہے تن سے ابمر جائیں گے جلا دو ہمیں منہ سے بول کردو باتیں کر لو بھائی سے آنکھوں کو کھول کر

۱۴۹

کیوں خاک پر دھرے ہو یہ رخسار خوں میں ترآؤ ہم اپنے زانو پہ رکھیں تمہارا سرلیتے ہو کیوں کراہ کے کروٹ ادھر ادھرثابت ہوا کہ جلد ہے دنیا سے آب سفرہے ہے دلیلِ مرگ ہے لکنت زبان کیہچکی نہیں یہ جسم سے رخصت ہے جان کی

۱۵۰

غش میں سنی جو گریۂ شپیر کی صداچونکے تڑپ کے حضرتِ عباس باوفاآہستگی پہ عرض کہ اے سبطِ مصطفااس پیار کے نثار اس الطاف کے فدازیبا ہے نکلے جان اگر پیشوائی کوگویا رسول آئے ہیں مشکل کشائی کو

۱۵۱

یہ کہہ کے روئے شہ کی طرف کی نظر بہ غورجھ کر پکارے شاہ کہ بھیا کہو کچھ اورتڑپا قدم پہ شہ کے وہ مقتولِ ظلم و جورلیں ہچکیاں بگڑنے لگے تیوروں کے طورپتھرا کے چشمِ اشک فشاں بند ہو گیتھرا ئے دونوں ہونٹ زباں بند ہو گئیں

۱۵۲

اکبر نے عرض کی کہ چچا جان مر گئےجھک کر پکارے شاہ کے بھیا کدھر گئےمنہ تو اٹھاؤ خاک سے رخسار بھر گئےواحسر تا حسین کو بے آس کر گئےاب کون دے گا دکھ میں نبی کے پسر کا ساتھدم بھر میں تم نے چھوڑ دیا عمر بھر کا ساتھ

۱۵۳

ہاں روؤ مومنو یہ بکا کا مقام ہےتم میں شریک روحِ رسولِ انام ہےاب رخصتِ حسین علیہ السلام ہےتاریخ آٹھویں ہے محرم تمام ہےموت آئی تو شریکِ عزا کون ہوئے گا؟جو سال بھر جیے گا وہ پھر شہ کو روئے گا

۱۵۴

آگے تمہارے مرتے جو عباس با وفاپرسا نہ دیتے سبط رسولِ خدا کو کیاتم سب کو دیکتے ہیں شنہشاہِ کربلازہرا بھی ننگے سر ہیں قیامت کرو بپاسمجھو شریکِ بزمِ شہِ مشرقین کودے لو جوان بھائی کا پرسا حسین کو

۱۵۵

پیٹو سروں کو ہوتا ہے اب مرثیہ تماملپٹو ضریح پاک سے کہہ کہہ کے یا امامرخصت طلب ہے باپ سے اکبر سا لالہ فامخاموش ہیں حسین نہیں کرتے کچھ کلاممقتول ظلم و جور ہے اب رن میں فاطمہہوتا ہے پنجتن میں کوئی دم میں خاتمہ

۱۵۶

بس اے انیسؔ روک لے اب خامہ کی عناںیہ غم ہے جاں گزا نہ کبھی ہوئے گا بیاںآنکھوں سے سامعین کے بھی اشک ہیں رواںخالق سے عرض کر کہ اے خلاقِ انس و جاںآنکھوں سے مس کروں میں مزار بتول کودکھلا دے جلد مرقد سبطِ رسول کو

۸۱ / ۹۰