جب رن میں سر بلند علی کا علم ہوا

توڑا یہ مورچہ یہ صف الٹی ادھر پھرےتلوار خوں میں آپ پسینے میں تر پھرےیوں خاک پہ گرا کے لعینوں کے سر پھرےجیسے شکار کھیلے ہوئے شیرِ نر پھرےتھی قہر کی نگاہ غضب کا جلال تھاآنکھیں بھی سرخ سرخ تھیں چہرہ بھی لال تھا

About this couplet

This is couplet 108 of 156 in “⁨جب رن میں سر بلند علی کا علم ہوا⁩” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Babar Ali Anis's Urdu book Kalam-e-Anis (⁨کلامِ انیس⁩).

Read it in the poem

۱۰۸ / ۱۵۶