جب رن میں سر بلند علی کا علم ہوا

اب یاں تو خاتمہ ہے سنو اس طرف کا حالڈیوڑھی پہ ننگے سر ہے رسولِ خدا کا لالغم سے کمر جھکی ہوئی رخ زرد جی نڈھالیہ کرب ہے کہ ہوتا ہے جو وقتِ انتقالگر گر اٹھے تڑپ کے ادھر سےادھر گئےجب آہ کی تو سب نے یہ جانا کہ مر گئے

About this couplet

This is couplet 132 of 156 in “⁨جب رن میں سر بلند علی کا علم ہوا⁩” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Babar Ali Anis's Urdu book Kalam-e-Anis (⁨کلامِ انیس⁩).

Read it in the poem

۱۳۲ / ۱۵۶