جب رن میں سر بلند علی کا علم ہوا

افشاں ہیں سر کے خون کی چھینٹوں سے سب نشاںعباس کانپ جاتے تھے جھکتا تھا جب نشاںنام آوروں نے آج مٹایا عجب نشاںکیوں اے حسین کون اٹھائے گا اب نشاںلاش ان کی پائمال ہوئی زخم پھٹ گئےجن میں علی کا زور تھا وہ ہاتھ کٹ گئے

About this couplet

This is couplet 140 of 156 in “⁨جب رن میں سر بلند علی کا علم ہوا⁩” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Babar Ali Anis's Urdu book Kalam-e-Anis (⁨کلامِ انیس⁩).

Read it in the poem

۱۴۰ / ۱۵۶