جب رن میں سر بلند علی کا علم ہوا
کیوں خاک پر دھرے ہو یہ رخسار خوں میں ترآؤ ہم اپنے زانو پہ رکھیں تمہارا سرلیتے ہو کیوں کراہ کے کروٹ ادھر ادھرثابت ہوا کہ جلد ہے دنیا سے آب سفرہے ہے دلیلِ مرگ ہے لکنت زبان کیہچکی نہیں یہ جسم سے رخصت ہے جان کی
About this couplet
This is couplet 149 of 156 in “جب رن میں سر بلند علی کا علم ہوا” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Babar Ali Anis's Urdu book Kalam-e-Anis (کلامِ انیس).
Read it in the poem۱۴۹ / ۱۵۶