جب رن میں سر بلند علی کا علم ہوا

بس اے انیسؔ روک لے اب خامہ کی عناںیہ غم ہے جاں گزا نہ کبھی ہوئے گا بیاںآنکھوں سے سامعین کے بھی اشک ہیں رواںخالق سے عرض کر کہ اے خلاقِ انس و جاںآنکھوں سے مس کروں میں مزار بتول کودکھلا دے جلد مرقد سبطِ رسول کو

About this couplet

This is couplet 156 of 156 in “⁨جب رن میں سر بلند علی کا علم ہوا⁩” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Babar Ali Anis's Urdu book Kalam-e-Anis (⁨کلامِ انیس⁩).

Read it in the poem

۱۵۶ / ۱۵۶