جب رن میں سر بلند علی کا علم ہوا

اکبر سے عرض کرتے تھے سینہ سپر کیےیہ نیمچے نہ لیویں گے دم بے لہو پییےگر آج مر گئے تو قیامت تلک جیےصدقے ہوں اس قدم پہ یہ سر ہیں اسی لیےآقا کے آگے لطف ہے تیغ آزمائی کاآج آپ دیکھیے گا تماشا لڑائی کا

About this couplet

This is couplet 18 of 156 in “⁨جب رن میں سر بلند علی کا علم ہوا⁩” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Babar Ali Anis's Urdu book Kalam-e-Anis (⁨کلامِ انیس⁩).

Read it in the poem

۱۸ / ۱۵۶