جب رن میں سر بلند علی کا علم ہوا
وہ شان اس قلم کی وہ عباس کا جلالنخلِ زمردی کے تلے تھا علی کا لالپرچم پہ جان دیتی تھیں پریوں کا تھا یہ حالغل تھا کہ دوشِ حور پہ بکھرے ہوئے ہیں بالہر لہر آبدار تھی کوثر کی موج سےطوبیٰ بھی دب گیا تھا پھریرے کی اوج سے
About this couplet
This is couplet 2 of 156 in “جب رن میں سر بلند علی کا علم ہوا” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Babar Ali Anis's Urdu book Kalam-e-Anis (کلامِ انیس).
Read it in the poem۲ / ۱۵۶