جب رن میں سر بلند علی کا علم ہوا

دو لاکھ سے نظر کسی غازی کی لڑ گئیبل کھا کے رخ پہ زلف کسی کی اکڑ گئیچتون کسی کی شورِ دہل سے بگڑ گئیمنہ سرخ ہو گیا شکن آبرو پہ پڑ گئینکلا کوئی سمند کو رانوں میں داب کےغصے سے رہ گیا کوئی ہونٹوں کو چاب کے

About this couplet

This is couplet 27 of 156 in “⁨جب رن میں سر بلند علی کا علم ہوا⁩” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Babar Ali Anis's Urdu book Kalam-e-Anis (⁨کلامِ انیس⁩).

Read it in the poem

۲۷ / ۱۵۶