جب رن میں سر بلند علی کا علم ہوا
عباس شہ سے کہتے تھے بپھرے ہوئے ہیں شیرتیر اس طرف سے آ چکے اب کس لیے ہے دیردو دن کی بھوک پیاس میں ہیں زندگی سے سیرمولا غلام سے کہیں رکنے کے یہ دلیرپاسِ ادب سے غیظ کو ٹالے ہوئے ہیں یہشیر خدا کی گود کے پالے ہوئے ہیں یہ
About this couplet
This is couplet 30 of 156 in “جب رن میں سر بلند علی کا علم ہوا” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Babar Ali Anis's Urdu book Kalam-e-Anis (کلامِ انیس).
Read it in the poem۳۰ / ۱۵۶