جب رن میں سر بلند علی کا علم ہوا
خالی ہوا قدیم رفیقوں کا جب پراکانپا سپہر شہ نے دمِ سردیوں بھراکٹنے لگا عزیزوں کا بھی جب چمن ہراگہ روئے آپ ہاتھ جگر پر کبھی دھرالڑکے جو یک بہ یک کئی ہاتھوں سے کھو گئےٹکڑے حسن کی طرح کلیجے کے ہو گئے
About this couplet
This is couplet 37 of 156 in “جب رن میں سر بلند علی کا علم ہوا” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Babar Ali Anis's Urdu book Kalam-e-Anis (کلامِ انیس).
Read it in the poem۳۷ / ۱۵۶