جب رن میں سر بلند علی کا علم ہوا
قوت جگر کی تم ہو تو یہ بازوؤں کا زوربچھڑا جو دو میں ایک تو پھر میں کنار گورہوتا ہے زخمِ دل پہ نمک آنسوؤں کا شورجب پتلیاں جدا ہوں تو چشمِ بشر ہے کورتم پہلوؤں میں تھے جو یہ بے کس سنبھل گیاپھر خاتمہ ہے جسم سے جب دم نکل گیا
About this couplet
This is couplet 49 of 156 in “جب رن میں سر بلند علی کا علم ہوا” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Babar Ali Anis's Urdu book Kalam-e-Anis (کلامِ انیس).
Read it in the poem۴۹ / ۱۵۶