جب رن میں سر بلند علی کا علم ہوا

اکبر نے سن کے باپ سے یہ اشکِ خوں بہائےعباس بول اٹھے نہ خدا وہ گھڑی دکھائےہے زندگی یہی کہ ہمیں پہلے موت آئےخاک اس غلام پر کہ جو آقا کی لاش اٹھائےدستِ قوی ہیں نیزہ وصمصام کے لیےپائیں ہیں کیا یہ ہاتھ اسی کام کے لیے

About this couplet

This is couplet 52 of 156 in “⁨جب رن میں سر بلند علی کا علم ہوا⁩” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Babar Ali Anis's Urdu book Kalam-e-Anis (⁨کلامِ انیس⁩).

Read it in the poem

۵۲ / ۱۵۶