جب رن میں سر بلند علی کا علم ہوا
بھائی کے اضطراب سے زینب کا ہے یہ حالڈھلکی ہوئی ہے سر سے روا اور کھلے ہیں بالعباس سے یہ کہتی ہے رو کر بہ صد ملالچھوڑو نہ شہ کو اے اسدِ کربیا کے لالکیا کہتے ہو سکینہ سے منہ موڑ موڑ کےبھیا کدھر چلے مرے بھائی کو چھوڑ کے
About this couplet
This is couplet 67 of 156 in “جب رن میں سر بلند علی کا علم ہوا” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Babar Ali Anis's Urdu book Kalam-e-Anis (کلامِ انیس).
Read it in the poem۶۷ / ۱۵۶