جب رن میں سر بلند علی کا علم ہوا

عباس کہتے ہیں کہ نہ جاؤں تو کیا کروںکیوں کر نہ حق امامِ زماں کا ادا کروںالٹوں صفیں ہزاروں سے تنہا وغا کروںیہ سر ہے الیے کہ قدم پر فدا کروںپہونچا ہے فیض سیدِ خوشخو کے ہاتھ سےدنیا میں کچھ تو کام ہو بازو کے ہاتھ سے

About this couplet

This is couplet 69 of 156 in “⁨جب رن میں سر بلند علی کا علم ہوا⁩” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Babar Ali Anis's Urdu book Kalam-e-Anis (⁨کلامِ انیس⁩).

Read it in the poem

۶۹ / ۱۵۶