جب رن میں سر بلند علی کا علم ہوا
باتیں یہ سن کے روتی ہیں زینب جھکا کے سرتھرا رہی ہے زوجہ عباس نام ورچہرہ تو فق ہے گود میں ہے چاند سا پسرمانع ہے شرم روتی ہے منہ پھیر پھیر کرموقع نہ روکنے کا ہے نے بول سکتی ہےحضرت کے منہ کو نرگسی آنکھوں سے تکتی ہے
About this couplet
This is couplet 71 of 156 in “جب رن میں سر بلند علی کا علم ہوا” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Babar Ali Anis's Urdu book Kalam-e-Anis (کلامِ انیس).
Read it in the poem۷۱ / ۱۵۶