جب رن میں سر بلند علی کا علم ہوا

صدقے ہیں ابنِ فاطمہ پر مجھ سے سو غلامدیکھو نہ روتے دیکھ لیں تم کو کہیں امامکیا اشکِ خوں بہا کے بگاڑوگی میرا کامہم ہاتھ جوڑتے ہیں یہ ہے صبر کا مقامپوچھیں حضورگر کہ تمہیں کیا قبول ہےصاحب یہ کہیو تم کہ رنڈاپا قبول ہے

About this couplet

This is couplet 77 of 156 in “⁨جب رن میں سر بلند علی کا علم ہوا⁩” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Babar Ali Anis's Urdu book Kalam-e-Anis (⁨کلامِ انیس⁩).

Read it in the poem

۷۷ / ۱۵۶