جب رن میں سر بلند علی کا علم ہوا

آفت میں صبر کرتی ہیں اس طرح بیبیاںہوتا ہے صابروں کا مصیبت میں امتحاںجل جائے دل مگر نہ اٹھے آہ کا دھواںاف کیجیے نہ منہ سے جو پہونچے لبوں پہ جاںچرچا رہے کہ وقت پہ کیا کام کر گئیچھوٹی بہو علی کا بڑا نام کر گئی

About this couplet

This is couplet 80 of 156 in “⁨جب رن میں سر بلند علی کا علم ہوا⁩” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Babar Ali Anis's Urdu book Kalam-e-Anis (⁨کلامِ انیس⁩).

Read it in the poem

۸۰ / ۱۵۶