جب رن میں سر بلند علی کا علم ہوا
پالا ہے مجھ کو یاشہ دل گیر آپ نےکی ہے ہمیشہ پیار سے تقریر آپ نےبندھوائی ہے کمر سے یہ شمشیر آپ نےبخشی ہے سب میں عزت و توقیر آپ نےوقتِ مدد ہے آج بھی امداد کیجیےبندہ سمجھ کے اب مجھے آزاد کیجیے
About this couplet
This is couplet 88 of 156 in “جب رن میں سر بلند علی کا علم ہوا” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Babar Ali Anis's Urdu book Kalam-e-Anis (کلامِ انیس).
Read it in the poem۸۸ / ۱۵۶