جب رن میں سر بلند علی کا علم ہوا
شہرہ بہت تھا حسن میں کنعاں کے ماہ کاقصہ سنا ہوا ہے زلیخا کی چاہ کایاں آفتاب کو نہیں یارا نگاہ کایوسف ہے ایک ایک جواں اس سپاہ کاسنتے تھے ہم کہ عالمِ ایجادِ زشت ہےایسے چمن کھلے ہیں کہ دنیا بہشت ہے
About this couplet
This is couplet 9 of 156 in “جب رن میں سر بلند علی کا علم ہوا” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Babar Ali Anis's Urdu book Kalam-e-Anis (کلامِ انیس).
Read it in the poem۹ / ۱۵۶