جب رن میں سر بلند علی کا علم ہوا

پہونچے جو دشتِ کیں میں اڑاتے ہوئے فرسگھوڑے کو ہاتھ اٹھا کے یہ آواز دی کہ بسدیکھیں صفیں جمی جو چپ و راس و پیش و پسنعرہ کیا کہ نہر پہ جانے کی ہے ہوسروکے گا جو وہ موت کے پنجے میں آئے گاہٹ جاؤ سب کہ شیر ترائی میں جائے گا

About this couplet

This is couplet 98 of 156 in “⁨جب رن میں سر بلند علی کا علم ہوا⁩” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Babar Ali Anis's Urdu book Kalam-e-Anis (⁨کلامِ انیس⁩).

Read it in the poem

۹۸ / ۱۵۶